سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 202 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 202

۲۰۲ (۴) کوئی شخص بوجہ اپنے مخصوص حالات کے ایک بیوی کے ساتھ اپنے تقوی اور اخلاق کو قائم نہیں رکھ سکتا یا (۵) کسی شخص کو دوسری شادی کے ساتھ کوئی اہم ملکی یا قومی مفاد وابستہ ہیں یا (۶) کسی زمانہ میں کسی ملک اور قوم کی حالت اس بات کی مقتضی ہے کہ نسل کی ترقی یا قومی اخلاق کی حفاظت کے واسطے لوگ عام طور پر ایک سے زیادہ شادیاں کریں یا (۷) دوسری شادی کے واسطے کوئی اور ایسی وجوہ ہیں جن کو عقل جائز قرار دیتی ہے تو ایسے حالات میں ہر اک صحیح الدماغ شخص کا ضمیر بشرطیکہ وہ تعصبات کے نیچے دب کر مر نہ گیا ہو تعدد ازدواج کو نہ صرف جائز بلکہ ضروری قرار دے گا اور اس قسم کے حالات میں مرد اور عورت دونوں سے توقع رکھی جائے گی کہ وہ زیادہ اہم اغراض کے حصول کے لیے اپنے جذبات کی قربانی کرنے کے واسطے تیار ہو جائیں۔اسلام ایک عملی مذہب ہے اور بنی نوع انسان کی تمام جائز ضروریات کو پورا کرنے والا ہے اور شکر کا مقام ہے کہ صدیوں کی ٹھوکروں کے بعد اب عیسائی دنیا بھی آہستہ آہستہ اسلامی تعلیم کی طرف آ رہی ہے اور وہ دن دور نہیں کہ دنیا جان لے گی کہ جو پاک اور کامل تعلیم تعصبات مذہبی وسیاسی کے سبب صدیوں سے اعتراضات کا تختہ مشق بنی رہی ہے وہی اس قابل ہے کہ بنی نوع انسان کی تمام جائز ضروریات کو پورا کر کے دنیا میں حقیقی امن کی بنیاد قائم کر سکے۔افسوس معترضین نے بغیر سوچے سمجھے اسلامی مسئلہ تعدد ازدواج کے متعلق یہ خیال کر لیا ہے کہ نعوذ باللہ یہ ایک عیش وعشرت کا راستہ ہے جو اسلام اپنے متبعین کے واسطے کھولتا ہے؛ حالانکہ اگر ان قیود کو جن کے ساتھ اسلام نے تعدد ازدواج کی اجازت دی ہے نظر غور سے دیکھا جاوے تو صاف پتہ لگ جاتا ہے کہ ایک سچے مسلمان کے واسطے دوسری شادی ہرگز عیش و عشرت کا سامان نہیں ہو سکتی بلکہ سچ پوچھو تو یہ ایک قربانی ہے جو اسے خاص حالات اور خاص ضروریات کے ماتحت کرنی پڑتی ہے اور اگر کوئی مسلمان اِن قیود کو توڑ کر عیش وعشرت کی غرض سے ایک سے زیادہ شادیاں کرتا ہے تو یہ اس کا ایک ذاتی فعل ہوگا جو کسی صورت میں بھی اسلامی شعار نہیں کہلا سکتا۔وہ ایک ایسا ہی کام کرتا ہے جیسا کہ بعض دوسرے مذاہب کے آزاد طبع لوگ جن کا مذہب کسی صورت میں بھی تعدد ازدواج کی اجازت نہیں دیتا گھر میں ایک بیوی کے ہوتے ہوئے ادھر اُدھر منہ کالا کرتے پھرتے ہیں۔علاوہ ازیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیئے کہ اسلام میں تعدد ازدواج کا حکم نہیں دیا گیا۔یعنی یہ لازمی نہیں قرار دیا گیا کہ ہر مسلمان ایک سے زیادہ شادیاں کرے۔بلکہ صرف یہ ایک استثنا ہے جو خاص حالات کے پیش آ جانے کی صورت میں جائز رکھی گئی ہے اور عملاً بیشتر مسلمان ایک ہی شادی پر اکتفا کرتے ہیں۔