سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 187
۱۸۷ کے تعلقات قطع کر دئیے جاویں اور اگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت سے دستبردار نہ ہوں تو ان کو ایک جگہ محصور کر کے تباہ کر دیا جاوے؛ چنانچہ محرم ۷ نبوی میں ایک با قاعدہ معاہدہ لکھا گیا کہ کوئی شخص خاندان بنو ہاشم اور بنو مطلب سے رشتہ نہیں کرے گا اور نہ ان کے پاس کوئی چیز فروخت کرے گا۔نہ اُن سے کچھ خریدے گا اور نہ اُن کے پاس کوئی کھانے پینے کی چیز جانے دے گا اور نہ اُن سے کسی قسم کا تعلق رکھے گا۔جب تک کہ وہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے الگ ہو کر آپ کو ان کے حوالے نہ کر دیں سے یہ معاہدہ جس میں قریش کے ساتھ قبائل بنو کنانہ بھی شامل تھے۔کے باقاعدہ لکھا گیا اور تمام بڑے بڑے رؤساء کے اُس پر دستخط ہوئے اور پھر وہ ایک اہم قومی عہد نامہ کے طور پر کعبہ کی دیوار کے ساتھ آویزاں کر دیا گیا؟ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام بنو ہاشم اور بنو مطلب کیا مسلم اور کیا کافر (سوائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چا ابولہب کے جس نے اپنی عداوت کے جوش میں قریش کا ساتھ دیا ) شعب ابی طالب میں جو ایک پہاڑی درہ کی صورت میں تھا، محصور ہو گئے اور اس طرح گویا قریش کے دو بڑے قبیلے مکہ کی حمد نی زندگی سے عملاً بالکل منقطع ہو گئے اور شعب ابی طالب میں جو گویا بنو ہاشم کا خاندانی درہ تھا قیدیوں کی طرح نظر بند کر دیئے گئے۔" چند گنتی کے دوسرے مسلمان جو اس وقت مکہ میں موجود تھے وہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔جو جو مصائب اور سختیاں ان ایام میں ان محصورین کو اُٹھانی پڑیں اُن کا حال پڑھ کر بدن پر لرزہ پڑ جاتا ہے۔صحابہ کا بیان ہے کہ بعض اوقات اُنہوں نے جانوروں کی طرح جنگلی درختوں کے پتے کھا کھا کر گزارہ کیا۔سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رات کے وقت ان کا پاؤں کسی ایسی چیز پر جا پڑا جو تر اور نرم معلوم ہوئی تھی (غالباً کوئی کھجور کا ٹکڑا ہو گا )۔اس وقت ان کی بھوک کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے فوراً اُسے اٹھا کر نگل لیا اور وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے آج تک پتہ نہیں کہ وہ کیا چیز تھی۔ایک دوسرے موقع پر بھوک کی وجہ سے ان کا یہ حال تھا کہ انہیں ایک سوکھا ہوا چھڑا زمین پر پڑا ہوا مل گیا تو اُسی کو اُنہوں نے پانی میں نرم اور صاف کیا اور پھر بھون کر کھایا اور تین دن اسی غیبی ضیافت میں بسر کئے۔بچوں کی یہ حالت تھی کہ محلہ سے باہر ان کے رونے اور چلانے کی آواز جاتی تھی جسے سن سن کر قریش خوش ہوتے ہے لیکن ا : ابن سعد : طبری ابن سعد وابن ہشام ے : ابن ہشام وابن سعد وطبری سے : بخاری کتاب وجوب الحج : کتب احادیث بحوالہ الروض الانف : الروض الانف حالات نقض صحیفہ کے : ابن سعد ذکر حصر قریش