سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 186
۱۸۶ ہے؟ میں اپنے خدا کو مانتے ہوئے تمہارے بتوں کو کس طرح پوج سکتا ہوں اور تم بت پرستی پر قائم رہتے ہوئے میرے خدا کی پرستش کس طرح کر سکتے ہو؟ یہ دونوں باتیں تو ایک دوسرے کے اس قد ر مخالف اور متضاد واقع ہوئی ہیں کہ کسی طرح ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔چنانچہ انہی ایام میں قرآن شریف کی یہ آیات نازل ہوئیں کہ : قُلْ يَأَيُّهَا الْكَفِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ وَلَا أَنْتُمْ عُبِدُونَ مَا أَعْبُدُ ، وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُمْ وَلَا انْتُمْ عَبِدُونَ مَا أَعْبُدُهُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِى دِينِ د یعنی اسے کفار کے گروہ! جن بتوں کو تم پوجتے ہو میں انہیں قابل پرستش نہیں سمجھتا اور نہ تم اپنے بتوں کو پوجتے ہوئے میرے خدا کی پرستش کر سکتے ہو۔پس یہ ناممکن ہے کہ میں کبھی تمہارے بتوں کی پرستش کروں جس طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ تم اپنے بتوں پر ایمان لاتے ہوئے میرے وحدہ لاشریک خدا کے سامنے جھکو۔میرا دین اور ہے اور تمہارا دین اور ہے اور یہ دونوں کبھی بھی ایک جگہ مل نہیں سکتے۔“ اس جواب سے قریش نے سمجھ لیا کہ ان کے اس ہوائی قلعہ کے کوئی پاؤں نہیں ہیں۔مسلمانوں کے خلاف قریش کا معاہدہ اور مسلمانوں کا بائیکاٹ قریش کو ان کی اوپر تلے کی ناکامی نے سخت مشتعل کر دیا تھا۔سب سے اول ابوطالب کے معاملہ میں انہیں ذلت کا منہ دیکھنا پڑا اور وہ بنو ہاشم کو مسلمانوں سے جدا نہ کر سکے۔اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کو ہر طرح کے مصائب و آلام میں مبتلا کر کے دیکھ لیا کہ یہ چٹان اپنی جگہ سے ہلنے والی نہیں ہے۔بعدہ حضرت حمزہ اور حضرت عمرؓ کے اسلام نے ان کی آنکھیں اس حقیقت کے دیکھنے کے لیے کھول دیں کہ شروع شروع میں مخالف رہنے کے بعد بھی ان کے بڑے سے بڑے لوگ اسلام کی رو میں بہہ جانے سے محفوظ نہیں ہیں۔زاں بعد حبشہ کا وفد نجاشی کے دربار سے خائب و خاسر ہو کر لوٹا اور قریش کو اس معاملہ میں سخت ذلت نصیب ہوئی اور اب انہوں نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سلسلہ جنبانی کر کے ایسی منہ کی کھائی کہ باید و شاید۔ان پے در پے ناکامیوں اور ذلتوں نے قریش کے تن بدن میں آگ لگادی تھی ، چنانچہ انہوں نے ایک عملی اقدام کے طور پر باہم مشورہ کر کے فیصلہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام افراد بنو ہاشم اور بنومطلب کے ساتھ ہر قسم : سورۃ کافرون وسيرة ابن ہشام : طبری