سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 185
۱۸۵ ابتر ہونے کا الزام انہی ایام میں بعض قریش نے یہ کہہ کر بھی اپنے دل کو تسلی دینے کی کوشش کی کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو لا وارث اور بے نسل ہے۔چند دن تک اس کا سلسلہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔اس پر یہ وحی نازل ہوئی کہ : إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَةُ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْلُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے تیری نسل اور تیری برکات و فیض کے سلسلہ کو بہت لمبا بنایا ہے۔پس تو خدا کے لیے اپنے نفس کی طاقتوں اور اپنی نسل و اموال کو بیشک بے دریغ خرچ کر۔کیونکہ یہ خزانہ ختم ہونے والا نہیں ہے؛ البتہ تیرے بدخواہ دشمنوں کے سارے سلسلے مٹا دیے جائیں گے۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جس شاندار اور آپ کے معاندین کے لیے جس ہیبت ناک طریق پر آپ کا یہ الہام پورا ہوا ہے وہ تاریخ کا ایک کھلا ورق ہے جسے کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔انہی اعتراض کرنے والوں کی اولا د نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو کر اس بات پر مہر لگا دی کہ نہ صرف قریش بلکہ تمام قبائل عرب میں سے اگر کسی شخص کی نسل حقیقتاً قائم رہی ہے تو وہ صرف محمد رسول اللہ ہیں۔وو قریش کی طرف سے مصالحت کی تجویز جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے ان ایام میں قریش سخت پیچ و تاب کھا رہے تھے اور ہر شخص اس سوچ میں پڑا ہوا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کا کس طرح مقابلہ کیا جائے۔اس ادھیڑ بن میں ایک دن روسائے قریش میں سے ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل اور امیہ بن خلف وغیرہ آپس میں بات کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہنے لگے۔اے محمد! یہ اختلاف تو بہت بڑھتا جاتا ہے اور ہمارا قومی شیرازہ بکھر رہا ہے۔کیا کوئی باہم مصالحت کی تدبیر نہیں ہو سکتی؟ آپ نے دریافت فرمایا۔وہ کیسے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم اور تم اپنی عبادت کو مشترک کر لیتے ہیں یعنی تم اپنے خدا کے ساتھ ہمارے بتوں کو بھی پوج لیا کرو اور ہم اپنے بتوں کی عبادت میں تمہارے خدا کو بھی شریک کر لیا کریں گے۔اس طرح مصالحت سے ایک یہ فائدہ بھی ہوگا کہ ہم میں سے جو فریق حق اور راستی پر ہے اس کا فائدہ دوسرے کو بھی پہنچتا رہے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا۔ذرا غور تو کرو یہ کس طرح ہوسکتا لے سورۃ کوثر اور ابن ہشام