سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 175
۱۷۵ کیا تم ایسی ایسی نیک صفات والے شخص کو نکالتے ہو؟ اس کے بعد حضرت ابو بکڑ نے اپنے گھر کے صحن میں ایک چھوٹی سی مسجد بنالی جس میں وہ نماز اور قرآن شریف پڑھا کرتے تھے اور چونکہ وہ نہایت رقیق القلب تھے۔اس لیے جب وہ قرآن شریف پڑھتے تو بسا اوقات ساتھ ساتھ روتے بھی جاتے۔قریش کی عورتیں اور بچے جو نسبتاً سادہ طبع اور تعصبات مذہبی سے آزاد تھے یہ نظارہ دیکھتے تو ان کے قلوب پر اس کا ایک خاص اثر ہوتا اور چونکہ ویسے بھی حضرت ابو بکر قریش میں بہت معزز تھے اس لیے ان کی یہ والہانہ عبادت لوگوں کے دلوں کو اسلام کی طرف راغب کرتی تھی۔اس پر قریش نے ابن الدغنہ کے پاس شکایت کی کہ ابو بکر اونچی آواز سے قرآن پڑھتا ہے اور اس سے ہماری عورتیں اور بچے اور کمز ور لوگ فتنہ میں پڑتے ہیں۔لہذا تم اسے روک دو۔اس نے حضرت ابو بکر کو روکنا چاہا۔مگر اُنہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ: ”میں یہ کام ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔ہاں اگر تمہیں کوئی ڈر ہے تو میں تمہاری پناہ سے نکلتا ہوں مجھے اپنے مولیٰ کی پناہ بس ہے۔اس کے بعد قریش نے حضرت ابو بکر کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں مگر وہ ایک مضبوط چٹان اسلام حمزه کی طرح اپنی جگہ پر قائم رہے۔ہجرت حبشہ کے متعلق سلسلہ واقعات کو ایک جگہ بیان کرنے کی وجہ سے ہم نے بعض درمیانی واقعات کا ذکر چھوڑ دیا تھا۔وہ اب بیان کرتے ہیں۔اب تک مسلمانوں کی ظاہری حالت نہایت کمزور تھی کیونکہ مسلمان ہونے والوں میں سے سوائے حضرت ابو بکر کے ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو قریش میں کوئی اثر رکھتا ہو یا کم از کم جس سے قریش کچھ دیتے ہوں مگر اب خدا کے فضل سے دو ایسے شخص اسلام میں داخل ہوئے جو اپنی وجاہت اور رعب کی وجہ سے اسلام کی ظاہری شان کو ایک حد تک مضبوط کرنے والے ثابت ہوئے۔ہماری مراد حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اور حضرت عمر بن الخطاب سے ہے جو دونوں ایک دوسرے کے آگے پیچھے 4 نبوی میں مسلمان ہوئے۔حمزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چاتھے اور اُن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت تھی لیکن ابھی تک مشرک تھے۔ان کا یہ معمول تھا کہ ہر روز صبح سویرے تیر کمان لے کر باہر نکل جاتے تھے اور سارا دن شکار کھیلتے رہتے تھے۔شام کو واپس آکر پہلے خانہ کعبہ کا طواف کرتے اور پھر قریش کی ان مجلسوں میں دورہ لگاتے جو وہ صحن کعبہ میں دو دو چار چار کی ٹولیوں میں جما کر بیٹھا کرتے تھے اور یہاں سے فارغ ہونے کے بعد گھر جاتے تھے۔ایک دن حمزہ اسی طرح شکار سے واپس آئے تو ایک خادمہ نے ل : بخاری ابواب الہجرت