سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 4
اس لیے ان حکومتوں کی تاریخ میں کہیں کہیں عرب کا ذکر بھی آجاتا ہے، مگر لازماً یہ ذکر بہت مختصر ہے اور صرف جزوی امور سے تعلق رکھتا ہے اور ملک کے اندرونی حالات کے متعلق اس ضمنی تذکرہ سے کوئی بصیرت پیدا نہیں ہوسکتی۔اسی ذیل میں یہودی اقوام کی تاریخ اور بائیبل کا نام بھی لیا جاسکتا ہے جن میں کہیں کہیں عرب کے متعلق اشارات پائے جاتے ہیں۔قبل از اسلام روایات واشعار تیسرے درجہ پر خود عرب کی اندرونی روایات ہیں اور دراصل عرب کی تاریخ قبل از اسلام کے لیے یہی روایات بطور بنیاد کے ہیں۔عرب میں فنِ تحریر و تصنیف کا رواج نہیں تھا لیکن زبانی روایات کو سینہ بہ سینہ محفوظ رکھنے کی طرف عام توجہ تھی اور اس غرض کے لیے عربوں کا حافظہ اس غضب کا تھا کہ اس کی مثال کسی دوسری قوم میں نظر نہیں آتی۔ہر قبیلہ میں ایک خاص طبقہ ایسے لوگوں کا ہوتا تھا جو اپنے قبیلہ بلکہ آس پاس کے ہمسایہ قبیلوں کی تاریخ کو بھی پوری صحت اور وفاداری کے ساتھ یاد رکھتے تھے۔اس فن کو عربوں میں علم انساب یعنی نسب ناموں کا علم کہتے تھے۔تاریخ میں زمانہ قبل از اسلام کے کئی لوگوں کا نام اس فن کے ماہرین کے طور پر بیان ہوا ہے۔اسی طرح یہ علم ایک نسل سے دوسری نسل تک اور دوسری سے تیسری تک چلتا چلا جا تا تھا اور ہر قبیلہ کی تاریخ اس کے راویوں کے سینوں میں محفوظ رہتی تھی۔اس ضمن میں ایک خاص ذریعہ قدیم تاریخ عرب کی حفاظت کا وہ اشعار بھی ہیں جو قبل از اسلام شاعروں نے کہے ہیں کیونکہ ان میں بھی خاص خاص حصے قبائل عرب کی تاریخ کے آ جاتے ہیں۔اسلام سے پہلے زمانہ میں عربوں میں شعر کا فن اس کمال کو پہنچا ہوا تھا کہ بعض ناقدین شعر کی رائے میں باوجود اسلامی شعراء کی ترقی کے اسلامی زمانہ بھی بعض بہت سے اس کی مثال پیش نہیں کرتا۔عربوں کی زندگی قبائلی تمدن کا رنگ رکھتی تھی۔اور قریباً ہر قبیلہ میں کوئی نہ کوئی شاعر ہوتا تھا جو اپنے قبیلہ کے خاص خاص حالات کو اپنے زور دار بدویا نہ اشعار میں محفوظ رکھتا تھا۔اور عربوں کی عادت تھی کہ ان اشعار کو یاد رکھتے اور اپنی مجالس میں سناتے رہتے تھے۔زمانہ جاہلیت کے شعراء میں امراء القیس ، نابغہ ذبیاتی، زہیر، طرفہ، عنتره، علقمه، اعشی، عمرو بن كلثوم، امیہ بن ابی صلت، کعب بن زہیر ، لبید ، حسان بن ثابت ، خنساء وغیرہ لے : ”لائف آف محمد" مصنفه سرولیم میور ایڈیشن ۱۸۹۴ صفحه ۶ دیباچه : ”لائف آف محمد “ میور دیباچه صفحه ۴۶ سے : اسلامی اصطلاح میں عرب کا زمانہ قبل از اسلام جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے۔