سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 168 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 168

۱۶۸ پہنچے تو حقیقت امر سے آگاہی ہوئی جس پر بعض تو چھپ چھپ کر اور بعض کسی طاقتور اور صاحب اثر رئیس قریش کی حفاظت میں ہو کر مکہ میں آگئے اور بعض واپس چلے گئے۔پس اگر قریش کے مسلمان ہو جانے کی افواہ میں کوئی حقیقت تھی تو وہ صرف اسی قدر تھی جو سورۃ نجم کی تلاوت پر سجدہ کرنے والے واقعہ میں بیان ہوئی ہے۔واللہ اعلم۔بہر حال اگر مهاجرین حبشہ واپس آئے بھی تھے تو اُن میں سے اکثر پھر واپس چلے گئے اور چونکہ قریش دن بدن اپنی ایذاء رسانی میں ترقی کرتے جاتے تھے اور ان کے مظالم روز بروز بڑھ رہے تھے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر دوسرے مسلمانوں نے بھی خفیہ خفیہ ہجرت کی تیاری شروع کر دی اور موقع پا کر آہستہ آہستہ نکلتے گئے۔یہ ہجرت کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ بالآخران مہاجرین حبشہ کی تعداد ایک سو ایک تک پہنچ گئی جن میں اٹھارہ عورتیں بھی تھیں۔اور مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت ہی تھوڑے مسلمان رہ گئے۔اس ہجرت کو بعض مؤرخین ہجرت حبشہ ثانیہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ایک جھوٹا واقعہ ہجرت حبشہ کے تعلق میں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ کفار قریش کے سجدہ کرنے اور مہاجرین حبشہ کے واپس چلے آنے کے متعلق بعض مؤرخین ایک عجیب قصہ نقل کرتے ہیں جو یہ ہے کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا از حد شوق رہتا تھا کہ اللہ کی طرف سے کوئی ایسی بات نازل ہو جو قریش کو اسلام کی طرف کھینچنے والی اور ان کی منافرت کو دور کرنے والی ہو۔الہذا جب آپ سورۃ نجم کی آیات تلاوت فرماتے ہوئے ان آیات پر پہنچے کہ : أَفَرَءَ يْتُمُ اللَّهَ وَالْعُزَّى وَمَنْوَةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرُى یعنی کیا تم نے مشرکین کے بتوں لات اور عزی اور منات کی طرف دیکھا ہے؟“ تو شیطان نے آپ کے اس شوق سے فائدہ اُٹھایا اور آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری کر دیئے کہ : تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَىٰ وَإِنَّ شَفَا عَتَهُنَّ لَتُرْتَجِى د یعنی لات اور عزمی اور منات بڑے جلیل القدر بت ہیں اور ان کی شفاعت کی اُمید رکھنی چاہئے۔“ جب قریش نے یہ الفاظ سنے تو وہ خاموش ہو گئے کہ ان کے بتوں کی عظمت اور قوت کو مان لیا گیا ل : زرقانی ہے : سورة النجم: ۲۰ ۲۱ ، ۲۰: