سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 3
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سیرت نبوی اور تاریخ اسلام کے ابتدائی ماخذ اسلام کا آغاز ایک ایسے زمانہ سے تعلق رکھتا ہے جو اکثر ملکوں کے لئے ایک غیر تا ریخی زمانہ تھا جب کہ نہ صرف ابھی مطبع کی ایجاد عالم وجود میں نہیں آئی تھی بلکہ فن تحریر وتصنیف بھی ابھی بالکل ابتدائی مراحل میں تھا۔معروف مسیحی سنہ کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ۵۷ ء سے لے کر ۶۳۲ ء تک قرار دیا گیا ہے۔یہ وہ زمانہ ہے جب کہ اکثر اقوام عالم فن تصنیف سے بالکل نا آشنا تھیں اور صرف ایسی قوموں میں کسی حد تک اس کا رواج پایا جاتا تھا جو کسی نہ کسی جہت سے علمی یا سیاسی رنگ میں ترقی یافتہ تھیں، لیکن جیسا کہ آگے چل کر بیان ہوگا ، اسلام سے پہلے عرب کا ملک نہ صرف بیرونی دنیا سے بالکل منقطع تھا بلکہ اندرونی تحریکات کے لحاظ سے بھی ہر قسم کی علمی اور سیاسی اور تمدنی تحریک سے کلیۂ خالی تھا، اس لیے گو اسلام سے پہلے بھی عرب میں بعض لکھے پڑھے لوگ پائے جاتے تھے مگر ان کا مبلغ علم محض نوشت و خواند تک محدود تھا اور اسلام سے پہلے زمانہ کی کوئی عربی تصنیف یا اس زمانہ کے متعلق عرب کی تاریخ کا کوئی ریکارڈ محفوظ نہیں ہے۔بے شک بعض قدیم اقوام عرب کے آثار و کتبات موجود ہیں، لیکن عرب جیسے ملک کی تاریخ کے لیے یہ ماخذ کسی صورت میں مربوط اور تفصیلی معلومات کی بنیاد نہیں بن سکتا۔دوسرے درجہ پر ان قوموں اور حکومتوں کا ریکارڈ ہے جو اس زمانہ میں عرب کے پہلو میں واقع تھیں۔جن میں سلطنت ہائے روم و فارس خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ان کے ساتھ چونکہ عرب کی حدود ملتی تھیں