سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 142
۱۴۲ روئے کہ ہچکی بندھ گئی۔حضرت عمرؓ کو بلال سے اتنی محبت تھی کہ جب وہ فوت ہوئے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا۔آج مسلمانوں کا سردار گذر گیا۔یہ ایک غریب حبشی غلام کے متعلق بادشاہ وقت کا قول تھا۔پھر عامر بن فہیرہ تھے جن کو حضرت ابو بکر نے غلامی سے آزاد کر کے خود اپنے پاس نوکر رکھ لیا تھا۔پھر خباب بن الارت تھے جو ایک آزاد شدہ غلام تھے اور اُن دنوں مکہ میں لوہار کا کام کیا کرتے تھے۔پھر ابوذر تھے جو قبیلہ غفار سے تعلق رکھتے تھے۔انہوں نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ سُنا تو تحقیقات کے لیے اپنے بھائی کو مکہ بھیجا۔چنانچہ وہ مکہ آیا اور واپس جا کر ابوذر کو حالات سے اطلاع دی ، مگر اس سے ابوذر کی تسلی نہیں ہوئی اس لیے اس کے بعد وہ خود مکہ میں آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر مسلمان ہو گئے۔ان کے اسلام لانے کا قصہ بخاری میں مفصل درج ہے اور بہت دلچسپ ہے۔ابوذر نہایت زاہد و صوفی مزاج آدمی تھے۔اُن کا عقیدہ تھا کہ کسی صورت میں بھی مال جمع کرنا جائز نہیں ہے۔اس بناء پر بعض اوقات بعض دوسرے صحابہ سے ان کا جھگڑا ہو جاتا تھا۔کے یہ وہ چند لوگ ہیں جو ابتدائی تین چار سال میں اسلام لائے۔ان میں سے شادی شدہ لوگوں کے بیوی بچے بھی عموماً ان کے ساتھ تھے ، چنانچہ اس زمانہ میں مسلمان ہونے والی عورتوں میں مؤرخین نے حضرت خدیجہ کے بعد اسماء بنت ابی بکر اور فاطمہ بنت خطاب زوجہ سعید بن زید کا نام خاص طور پر لیا ہے۔ان کے علاوہ عورتوں میں عباس بن عبد المطلب کی بیوی اُمّم فضل بھی ابتدائی مسلمانوں میں سے تھیں مگر یہ عجیب بات ہے کہ اس وقت تک عباس خود اسلام نہیں لائے تھے۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تین چار سالہ تبلیغی جد وجہد کا نتیجہ یہی چند گنتی کی جانیں تھیں۔مگر ان سابقین الاولین میں سے سوائے حضرت ابوبکر کے ایک بھی ایسا نہ تھا جو قریش میں کوئی خاص اثر یا وجاہت رکھتا ہو۔بعض غلام تھے اور اکثر لوگ غریب اور کمزور تھے۔بعض البتہ قریش کے اعلیٰ گھرانوں سے بھی تعلق رکھتے تھے۔مگر ان میں سے بھی زیادہ تر نوجوان تھے۔بلکہ بعض کو تو گویا بچے ہی کہنا چاہئے اس لیے وہ ابھی اس حالت کو نہ پہنچے تھے کہ اپنے قبیلے میں کوئی اثر پیدا کرسکیں اور جو معمر تھے وہ غربت یا کسی اور وجہ سے کوئی اثر نہ رکھتے تھے۔اس وجہ سے قریش میں یہ عام خیال تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو صرف چھوٹے اور کمز ور لوگوں نے مانا ہے؛ چنانچہ جب کئی سال بعد ہر قل شہنشاہ روم نے رئیس مکہ ابوسفیان سے دریافت کیا کہ کیا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بڑے لوگ مانتے ہیں یا کہ کمزور اور چھوٹے لوگ؟" تو ابوسفیان نے یہی جواب دیا کہ کمزور اور چھوٹے لوگ ل : بخاری کتاب بدء الخلق باب اسلام ابی ذر : اصابہ - اسدالغابہ