سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 141 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 141

۱۴۱ ابو حذیفہ بن عتبہ تھے جو بنوامیہ میں سے تھے۔ان کا باپ عتبہ بن ربیعہ سردارانِ قریش میں سے تھا۔ابوحذیفہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے جو حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں مسیلمہ کذاب کے ساتھ ہوئی تھی۔سعید بن زید تھے جو بنو عدی میں سے تھے اور حضرت عمر کے بہنوئی تھے۔یہ زید بن عمرو بن نفیل کے صاحبزادے تھے جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں ہی شرک ترک کر رکھا تھا۔سعید بھی عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔امیر معاویہ کے زمانہ میں فوت ہوئے۔عثمان بن مظعون تھے جو بنو حج میں سے تھے۔نہایت صوفی مزاج آدمی تھے۔انہوں نے زمانہ جاہلیت میں ہی شراب ترک کر رکھی تھی اور اسلام میں بھی تارک دنیا ہونا چاہتے تھے مگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرماتے ہوئے کہ اسلام میں رہبانیت جائز نہیں ہے اس کی اجازت نہیں دی۔ارقم بن ابی ارقم جن کے مکان کو جو کوہ صفا کے دامن میں تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں اپنا تبلیغی مرکز بنایا۔ارقم بنومخزوم میں سے تھے۔پھر عبداللہ بن جحش اور عبید اللہ بن جحش تھے۔یہ دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے مگر قبیلہ قریش سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔زینب بنت جحش جو بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئیں انہی کی بہن تھیں۔عبید اللہ بن جحش ان لوگوں میں سے تھا۔جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں ہی بت پرستی ترک کر رکھی تھی۔اسلام آیا تو وہ مسلمان ہو گیا، لیکن جب وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر کے گیا تو کسی وجہ سے وہاں اسلام سے منحرف ہو کر عیسائی ہو گیا۔اس کی بیوہ ام حبیبہ جو قریش کے مشہور رئیس ابوسفیان کی لڑکی تھی بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئی ہے ان لوگوں کے علاوہ عبداللہ بن مسعودؓ تھے جو غیر قریشی تھے اور قبیلہ ھذیل سے تعلق رکھتے تھے۔عبداللہ ایک بہت غریب آدمی تھے اور عقبہ بن ابی معیط رئیس قریش کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔اسلام لانے کے بعد یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئے اور آپ کی صحبت سے بالآ خر نہایت عالم و فاضل بن گئے۔فقہ حنفی کی بنیا د زیادہ تر انہی کے اقوال و اجتہادات پر مبنی ہے۔پھر بلال بن رباح تھے جو امیہ بن خلف کے حبشی غلام تھے۔ہجرت کے بعد مدینہ میں اذان دینے کا کام انہی کے سپر د تھا۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انہوں نے اذان کہنا چھوڑ دیا تھا لیکن جب حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں شام فتح ہوا تو ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے اصرار پر انہوں نے پھر اذان کہی جس پر سب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ یاد آ گیا؛ چنانچہ وہ خود اور حضرت عمرؓ اور دوسرے اصحاب جو اس وقت موجود تھے اتنے ل: اسد الغابه