سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 140 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 140

۱۴۰ عبدالمطلب کے صاحبزادے تھے اور بعد میں حضرت ابو بکر کے داماد ہوئے۔یہ بنو اسد میں سے تھے اور اسلام لانے کے وقت ان کی عمر صرف پندرہ سال کی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر کوغزوہ خندق کے موقع پر ایک خاص خدمت سرانجام دینے کی وجہ سے حواری کا خطاب عطا فرمایا تھا۔زبیر حضرت علیؓ کے عہد حکومت میں جنگ جمل کے بعد شہید ہوئے۔پانچویں طلحہ بن عبید اللہ تھے جو حضرت ابو بکر کے خاندان یعنی قبیلہ بنو تیم میں سے تھے اور اس وقت بالکل نوجوان تھے۔طلحہ بھی اسلام کے خاص فدایان میں سے تھے۔حضرت علی کے عہد میں جنگ جمل میں شہید ہوئے۔یہ پانچوں اصحاب عشرہ مبشرہ میں سے ہیں یعنی اُن دس اصحاب میں داخل ہیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے خاص طور پر جنت کی بشارت دی تھی اور جو آپ کے نہایت مقرب صحابی اور مشیر شمار ہوتے تھے۔ان لوگوں کے بعد اور لوگ جو شروع شروع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے وہ بعض تو قریش میں سے تھے اور بعض دوسرے قبائل میں سے تھے۔ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں : ابوعبیدہ بن عبداللہ بن الجراح جن کے ہاتھ پر حضرت عمرؓ کے زمانہ میں شام فتح ہوا۔یہ نہایت نیک اور صوفی مزاج آدمی تھے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے امین الملۃ کا خطاب عطا ہوا تھا۔ابو عبیدہ قریش کے قبیلہ بنو خلج میں سے تھے جنہیں بعض اوقات فہر بن مالک کی طرف منسوب کر کے فہری بھی کہہ لیتے تھے۔حضرت عائشہ کی نظر میں ابو عبیدہ کی اتنی قدر و منزلت تھی کہ وہ کہا کرتی تھیں کہ اگر حضرت عمرہ کی وفات پر ابو عبیدہ زندہ ہوتے تو وہی خلیفہ ہوتے۔حضرت ابو بکر بھی ابو عبیدہ کی بہت قدر کرتے تھے ، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جن لوگوں کو حضرت ابو بکر نے خلافت کا اہل قرار دیا تھا، اُن میں سے ابو عبیدہ بھی تھے۔ابو عبیدہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں دبائے طاعون سے شہید ہوئے۔پھر عبیدۃ بن الحارث تھے جو بنو مطلب میں سے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار تھے۔پھر ابوسلمہ بن عبد الاسد تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے اور بنو مخزوم سے تعلق رکھتے تھے۔اُن کی وفات پر اُن کی بیوہ ام سلمہ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی ہوئی۔ل : اصابه واسدالغابہ وابن ہشام وطبری وزرقانی