سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 134
۱۳۴ پیغام کے لینے کے لیے آمادہ ہو چکی ہے اس نے آپ کو چھوڑ کر کہا : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبَّكَ الَّذِي خَلَقَ : خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ & اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ نْ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ نْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ پڑھ یعنی منہ سے بول یا لوگوں تک پہنچا اپنے رب کا نام ہے جس نے پیدا کیا۔پیدا کیا اس نے انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے۔ہاں پڑھ۔تیرا رب بہت عزت وشان والا ہے۔جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا۔سکھایا اس نے انسان کو وہ کچھ جو وہ جانتا نہ تھا۔“۔یہ کہہ کر فرشتہ غائب ہو گیا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت سخت گھبراہٹ اور اضطراب کی تھی اور دل دھڑک رہا تھا کہ خدا جانے یہ کیا معاملہ ہے اور کیا ہونے والا ہے۔اسی حالت میں آپ جلدی جلدی غار حرا سے نکل کر گھر کی طرف لوٹے اور خدیجہ سے فرمایا۔زَمِّلُو نِي - زَمِلُونِی۔مجھ پر کوئی کپڑا ڈالو۔مجھ پر کوئی کپڑا ڈالو۔حضرت خدیجہ اپنے محبوب خاوند کی یہ حالت دیکھ کر گھبرا گئیں اور جلدی سے آپ کو کپڑا اوڑھا دیا۔جب ذرا اطمینان ہوا اور گھبراہٹ کچھ کم ہوئی تو آپ نے سارا ماجرا حضرت خدیجہ کوسنایا اور آخر میں فرمایا۔لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِی۔مجھے تو اپنے نفس کے متعلق ڈر پیدا ہو گیا ہے۔مگر حضرت خدیجہ جو آپ کی حالت سے خوب واقف تھیں بولیں: كَلَّا أَبْشِرُ فَوَ اللَّهِ لَا يُخْزِيْكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدِقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ و تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا بلکہ آپ خوش ہوں۔خدا کی قسم اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔آپ صلہ رحمی کرتے ہیں اور صادق القول ہیں اور لوگوں کے بوجھ بٹاتے ہیں اور معدوم اخلاق کو آپ نے اپنے اندر جمع کیا ہے اور آپ مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی باتوں میں لوگوں کے مددگار بنتے ہیں۔“ 66 ل : العلق : ۲ تا ۶ ہے : اس جگہ نحوی ترکیب میں لفظ اسم اقرأ کا مفعول ہے۔عربی قواعد نحو کی رُو سے اقرا کے مفعول پر بعض اوقات ب زائد آ جایا کرتی ہے۔دیکھو اقرب الموارد۔: یعنی اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ انسان کو قلم کے ذریعہ سے نئے نئے علوم سکھائے جائیں۔: بخاری کتاب بدء الوحی۔