سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 129
۱۲۹ شناسی ہو گئی تھی ، چنانچہ ایک حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر معاہدہ لکھے جانے کے وقت آپ نے کفار کی طرف سے اعتراض ہونے پر اپنے نام کے ساتھ سے رسول اللہ “ کے الفاظ خود اپنے ہاتھ سے کاٹ کر ان کی جگہ ابن عبد اللہ کے الفاظ لکھ دیئے تھے۔یہ بالکل ممکن ہے کہ اس موقع پر جو مجرد کتب کا لفظ حدیث میں لکھ دینے کے لیے استعمال ہوا ہے اُس سے مراد لکھا دینے کے ہوں۔کیونکہ بعض اوقات عام محاورہ میں لکھنے اور لکھوانے ہر دو کے لیے ایک ہی لفظ بول دیتے ہیں۔اس صورت میں معنے یہ ہوں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ کا جو حصہ کاٹا وہ خود اپنے ہاتھ سے کاٹا مگر کاٹنے کے بعد جو کچھ لکھا گیا وہ آپ نے اپنے کاتب سے لکھوایا، لیکن بہر حال جو بھی مراد لی جاوے اس سے یقیناً آپ کی اُمیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔بعثت سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوستانہ تعلقات کا دائرہ بہت ہی محدود نظر حلقہ احباب آتا ہے۔دراصل شروع سے ہی آپ کی طبیعت علیحدگی پسند تھی اور آپ نے اپنی عمر کے کسی حصہ میں بھی مکہ کی عام سوسائٹی میں زیادہ خلا ملا نہیں کیا ، تاہم بعض ایسے لوگ بھی تھے جن کے ساتھ آپ کے دوستانہ تعلقات تھے۔ان سب میں ممتاز حضرت ابو بکر یعنی عبداللہ بن ابی قحافہ تھے۔جو قریش کے ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی شرافت اور قابلیت کی وجہ سے قوم میں بڑی عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔دوسرے درجہ پر حکیم بن حزام تھے جو حضرت خدیجہ کے بھتیجے تھے۔یہ نہایت شریف الطبع آدمی تھے۔شروع شروع میں یہ اسلام نہیں لائے لیکن اس حالت میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت اور اخلاص رکھتے تھے۔آخر سعادت طبعی اسلام کی طرف کھینچ لائی۔پھر زید بن عمر و سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلقات تھے۔یہ صاحب حضرت عمرؓ کے قریبی رشتہ دار تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں ہی شرک ترک کر رکھا تھا اور اپنے آپ کو دین ابراہیمی کی طرف منسوب کرتے تھے مگر یہ اسلام کے زمانہ سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔بعثت سے پہلے آپ کا مذہب اسلام اپنے تفصیلی مسائل کے ساتھ تو بہر حال بعد میں ہی اترا ہے اس لیے بعثت سے پہلے اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کار بند ہونے کا تو کوئی شخص مدعی نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کوئی ہوا ہے لیکن یہ بات تاریخ سے پایہ ثبوت تک پہنچی ہوئی ہے کہ بمقتضائے فطرتِ صحیحہ آپ ہمیشہ عرب سوسائٹی کی گندی رسوم سے مجتنب رہے اور شرک بھی آپ : بخاری کتاب الصلح