سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 128
۱۲۸ ابتدائی زندگی پر ایک سرسری نظر واقعات کی قلت اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ک زندگی کا پہلا دور تم ہو لیکن طبیعت سیر نہیں ور ہاتھ سے قلم رکھنے کو جی نہیں چاہتا اور دل یہ محسوس کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی چالیس سالہ زندگی کے واقعات اس تفصیل کے ساتھ محفوظ نہیں ہیں جیسا کہ بعد کے زمانہ کے محفوظ ہیں۔ایک حد تک یہ ایک طبعی امر ہے کیونکہ جس نظر سے آپ کو نبوت کے زمانہ میں دیکھا جاتا تھا، وہ پہلے زمانہ میں موجود نہیں تھی لیکن پھر بھی اگر ابتدائی مؤرخین کی طرف سے آپ کی قبل از بعثت زندگی کے حالات پر زیادہ توجہ کے ساتھ نظر ڈالی جاتی اور زیادہ محنت اور زیادہ کوشش کے ساتھ واقعات کی تلاش کی جاتی تو بعض مزید حالات دریافت ہو سکتے تھے؛ تاہم جو کچھ بھی موجود ہے وہ دوسرے سابقہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ ہے اور وہ اس عظیم الشان پاک و بے لوث زندگی کا کافی وشافی ثبوت ہے جو آپ نے بعثت سے پہلے گزاری۔آپ کی امتیت ناظرین نے یہ بات نوٹ کی ہوگی کہ اس چالیس سالہ زندگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا کوئی ذکر نہیں آیا۔دراصل عرب میں تعلیم بہت ہی کم تھی اور اس لحاظ سے شرفاء اور عوام میں بہت کم امتیاز تھا بلکہ بڑے بڑے سردار بھی عموماً اسی طرح ان پڑھ اور ناخواندہ ہوتے تھے جس طرح عوام تھے۔مگر اس میں شبہ نہیں کہ ملک میں پڑھے لکھے لوگ بھی کہیں کہیں پائے جاتے تھے اور ایسے لوگ مکہ میں دوسرے مقامات کی نسبت قدرے زیادہ تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ ثابت ہے کہ آپ بالکل ناخواندہ اور امی تھے۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی اُمتیت میں خدائی تصرف کا بھی ہاتھ تھا تا کہ دنیا میں آپ کے علمی معجزہ کی شان دوبالا ہوکر چپکے۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ نبوت میں چونکہ اکثر مراسلات اور معاہدات وغیرہ آپ کے سامنے تیار ہوتے اور آپ کی نظر سے گذرتے رہتے تھے۔اس لیے آپ کو اپنی عمر کے آخری حصہ میں کچھ حروف ل قرآن شریف سورۃ اعراف:۱۵۹ وسورۃ عنکبوت : ۴۹