سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 127 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 127

۱۲۷ تھی۔چنانچہ حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ : اَوَّلُ مَا بُدِى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ۔وَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ وَحُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ فَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيْهِ وَهُوَالتَّعَبُّدُ اللَّيَالِي ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَالِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى جَاءَهُ الْحَقُّ وَ هُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ یعنی شروع شروع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جس رنگ میں وحی کی ابتداء ہوئی وہ رویا صالحہ کی صورت میں تھی جو آپ نیند کی حالت میں دیکھتے تھے۔ہر ایک رؤیا جو آپ دیکھتے تھے وہ صبح کی سفیدی کی طرح پوری ہوتی تھی۔اس زمانہ میں آپ کو خلوت و تنہائی میں رہنا بہت محبوب تھا۔آپ غارِ حرا میں جاتے اور وہاں کئی کئی رات عبادت کرتے رہتے پھر گھر آتے اور اپنے ساتھ کچھ اور زاد لے جاتے۔جب وہ ختم ہو جاتا تو پھر خدیجہ سے آ کر لے جاتے۔آپ اسی حالت میں تھے کہ آپ کے پاس خدا کی طرف سے حق آ گیا۔اس وقت آپ غار حرا میں تھے۔: بخاری باب بدء الوحی