سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 124 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 124

۱۲۴ یہ جیسا کہ پہلے کہا گیا تھا تصویری زبان میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ عنقریب نبوت کی عمارت کے کونے کا پتھر آپ کے وجود سے اپنی جگہ پر قائم ہو گا لے عام مؤرخین کعبہ کی اس تعمیر کی تاریخ کے متعلق صرف اتنا لکھ دیتے ہیں کہ یہ آپ کی پینتیس سال کی عمر کا واقعہ ہے حالانکہ اگر اس زمانہ کے حالات کو مد نظر رکھ کر دیکھا جاوے تو دراصل نئی عمارت کے واسطے سامان جمع کرنے اور پرانی عمارت کو گرانے وغیرہ کا کام ایک کافی لمبا وقت چاہتا تھا۔لہذا قرین قیاس یہ ہے کہ اس کام کی تیاری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی میں ہی شروع ہو گئی تھی اور نئی عمارت کے واسطے سامان یعنی پتھر لکڑی وغیرہ آہستہ آہستہ جمع کرنا شروع کر دیا تھا؛ چنانچہ ایک صحیح روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تعمیر کعبہ کے واسطے پتھر اٹھا اٹھا کر جمع کر رہے تھے تو آپ کے چچا عباس نے آپ سے کہا۔بھتیجے اپنا نہ بند اپنے شانہ پر رکھ لو تا کہ پتھروں کی رگڑ وغیرہ نہ لگے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل حکم تو کی مگر چونکہ اس سے آپ کے جسم کا کچھ ستر والا حصہ نگا ہو گیا۔آپ شرم کے مارے زمین پر گر گئے اور آپ کی آنکھیں پتھرا گئیں اور آپ بے تاب ہوکر میراتہ بند میرا نہ بند پکارنے لگ گئے۔حتی کہ پھر آپ نے جلدی سے اپنا تہ بند درست کر لیا۔یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جوصرف ابتدائی عمر کی طرف ہی منسوب ہو سکتا ہے؛ چنانچہ بعض گذشتہ مؤرخین نے بھی لکھا ہے کہ یہ صغرسنی کا واقعہ ہے۔ہاں حجر اسود کے متعلق حکم بن کر فیصلہ کرنے کا واقعہ بے شک بعد کا ہے۔کیونکہ اس کے متعلق یہ روایت ہے کہ آپ کو آتا دیکھ کر سب لوگ امین امین پکا راٹھے تھے اور ظاہر ہے کہ امین کا لقب آپ نے اس وقت پایا جب معاملات میں پڑ کر آپ کی امانت و دیانت روز روشن کی طرح ظاہر ہو کر مسلم ہوگئی۔زید بن حارثہ کا آپ کی خدمت میں آنا حضرت خدیجہ کے ایک بھتیجے تھے جن کا نام حکیم بن حزام تھا۔یہ بڑے تاجر آدمی تھے اور ہمیشہ تجارتی قافلوں کے ساتھ ادھر ادھر آتے جاتے رہتے تھے۔ایک دفعہ یہ کہیں تجارت کے لیے گئے تو چند ایک غلام خرید کر لائے اور اُن میں سے ایک غلام اپنی پھوپھی کی نذر کیا۔اُس کا نام زید بن حارثہ تھا۔زید دراصل ایک آزاد خاندان کا لڑکا تھا مگر کسی لوٹ مار میں قید ہو کر غلام بنا لیا گیا تھا۔خدیجہ نے زید کو ایک ہوشیار اور ہونہارلڑ کا پاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر د کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ یہ دستور تھا کہ اپنے غلاموں اور خادموں کو نہایت محبت اور پیار ا : زبور ۱۸ آیت ۲۲ : بخاری باب بنیان الکعبه سے : ابن ہشام وزرقانی و سہیلی