سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 123
۱۲۳ از سر نو تعمیر کرنے کا ارادہ کیا مگر گرانے کا کام شروع کرنے سے سب ڈرتے تھے کہ خدا کا گھر ہے کوئی آفت نہ آجاوے۔آخر ولید بن مغیرہ نے جو معمر اور سرداران قریش میں سے تھا اس کام کو شروع کیا اور جب لوگوں نے ایک رات انتظار کر کے دیکھ لیا کہ ولید پر اس وجہ سے کوئی آفت نہیں آئی تو پھر سب شامل ہو گئے جب پُرانی عمارت کو گراتے گراتے حضرت ابراہیم کی بنیادوں پر پہنچے تو رک گئے اور اُن کے اُوپر نئی تعمیر شروع کی۔اتفاق ایسا ہوا کہ ساحل کے پاس ایک بڑی کشتی ٹوٹ گئی تھی۔اس کی لکڑی قریش نے خرید لی لیکن چونکہ یہ لکڑی ساری چھت کے لیے ناکافی تھی۔اس واسطے جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے قریش کعبہ کی اس جدید تعمیر کو ابراہیم خلیل اللہ کی بنیادوں پر کھڑا نہیں کر سکے، بلکہ ایک طرف سات ہاتھ جگہ چھوڑ دی۔بعض اور تبدیلیاں بھی قریش نے کیں مگر ان کا بیان او پر گذر چکا ہے اس لیے اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔جب قریش کعبہ کی تعمیر کرتے ہوئے حجر اسود کی جگہ پر پہنچے تو قبائلِ قریش کے اندر اس بات پر سخت جھگڑا ہوا کہ کون قبیلہ اسے اس کی جگہ پر رکھے۔ہر قبیلہ اس عزت کو اپنے لیے چاہتا تھا۔حتی کہ لوگ آپس میں لڑنے مرنے کو تیار ہو گئے اور بعض نے تو زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق ایک خون سے بھرے ہوئے پیالے میں اُنگلیاں ڈبو کر قسمیں کھائیں کہ لڑ کر مر جائیں گے مگر اس عزت کو اپنے قبیلہ سے باہر نہ جانے دیں گے۔اس جھگڑے کی وجہ سے تعمیر کا کام کئی دن تک بند رہا۔آخر ابو امیہ بن مغیرہ نے تجویز پیش کی کہ جو شخص سب سے پہلے حرم کے اندر آتا دکھائی دے وہ اس بات میں حکم ہو کر فیصلہ کرے کہ اس موقع پر کیا کرنا چاہئے۔اللہ کی قدرت لوگوں کی آنکھیں جو اٹھیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں۔آپ کو دیکھ کر سب پکا راُٹھے۔امین امین۔اور سب نے با تفاق کہا کہ ”ہم اس کے فیصلہ پر راضی ہیں۔جب آپ قریب آئے تو انہوں نے آپ سے حقیقت امر بیان کی اور فیصلہ چاہا۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی نصرت سے ایسا فیصلہ فرمایا کہ سب سردارانِ قریش دنگ رہ گئے اور آفرین پکار اُٹھے۔آپ نے اپنی چادر لی اور اس پر حجر اسود کو رکھ دیا اور تمام قبائل قریش کے رؤساء کو اس چادر کے کونے پکڑ وادیئے اور چادر اُٹھانے کا حکم دیا۔چنانچہ سب نے مل کر چادر کو اُٹھایا اور کسی کو بھی شکایت نہ رہی۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تصویری زبان میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ عرب کے مختلف قبائل جواب برسر پیکار ہیں وہ اس پاک وجود کے ذریعہ سے ایک مرکز پر جمع ہو جائیں گے۔جب حجر اسود کی اصلی جگہ کے محاذ میں چادر پہنچی تو آپ نے اپنے دست مبارک سے اُسے چادر پر سے اُٹھا کر اس کی جگہ پر رکھ دیا ہے ل : طبری وابن ہشام وابن سعد وزرقانی و تاریخ خمیس 66