سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 117
۱۱۷ بدیوں سے خدائی حفاظت اسی زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات اپنے ساتھی سے کہا جو بکریاں چرانے میں آپ کا شریک تھا کہ تم میری بکریوں کا خیال رکھو تا کہ میں ذرا شہر جا کر لوگوں کی مجلس دیکھ آؤں۔ان دنوں میں دستور تھا کہ رات کے وقت لوگ کسی مکان میں جمع ہو کر کہانیاں سناتے اور شعر و غزل کا شغل کیا کرتے تھے اور بعض اوقات اسی میں ساری ساری رات گزار دیتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی بچپن کے شوق میں یہ تماشہ دیکھنے گئے مگر اللہ تعالیٰ کو اس لغو کام میں خاتم النبیین کی شرکت پسند نہ آئی ؛ چنانچہ ایک جگہ آپ گئے مگر راستے میں ہی نیند آ گئی اور سو گئے اور صبح تک سوتے رہے۔ایک دفعہ اور آپ کو یہی خیال آیا مگر پھر بھی دست غیبی نے روک دیا۔زمانہ نبوت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میں نے ساری عمر میں صرف دو دفعہ اس قسم کی مجلس میں شرکت کا ارادہ کیا، مگر دونوں دفعہ روک دیا گیا۔حرب فجار عرب ایک نہایت جنگجو قوم تھی اور لڑنے مرنے کو یہ لوگ فخر سمجھتے تھے۔اسی لیے بات بات پر تلوار بھی جاتی تھی اور جب کبھی ایسا موقع آتا تو ایک بڑے پیالے میں خون بھر کر سب اس کے اندر اُنگلیاں ڈبو کر قسم کھاتے تھے کہ لڑ کر مر جائیں گے مگر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔مختلف قبائل کی آپس میں عداوت رہتی تھی کیونکہ ہر قبیلہ کو اپنی عزت اور بڑائی کا از بس خیال تھا۔ایسی صورت میں میلوں وغیرہ میں جہاں مختلف قسم کے لوگ جمع ہوتے ہیں لڑائی کی وجوہات پیدا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں۔چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ابھی بچپن ہی تھا تو عکاظ کے میلہ کے موقع پر جو مکہ سے جانب شرق تین دن کی مسافت پر ایک خوشگوار وادی میں لگا کرتا تھا، قبائل قیس عیلان اور بنو کنانہ کے درمیان کچھ چھیڑ چھاڑ شروع ہوئی۔اس زمانہ میں قیس عیلان کے مختلف قبائل مکہ سے جنوب مشرق میں طائف اور مکہ کے درمیان آباد تھے۔ایک عرصہ تک تو دونوں طرف کے رؤساء نے جنگ کی نوبت آنے سے بچائے رکھا، مگر آہستہ آہستہ تعلقات کشیدہ ہوتے گئے اور بالآ خر لڑائی تک نوبت پہنچ گئی۔اس جنگ کو تاریخ میں حرب فجار کہتے ہیں۔جس کے معنے ناجائز جنگ کے ہیں۔کیونکہ اس جنگ کی ابتداء شہر حرم میں ہوئی تھی جس کے اندر لڑنا عرب کے قدیم دستور کے مطابق ممنوع تھا۔غرض یہ جنگ ہوئی اور ایسے زور شور سے ہوئی کہ زمانہ جاہلیت کی جنگوں میں خاص شہرت رکھتی ہے بنو کنانہ بشمولیت قبیلہ قریش ایک طرف تھے اور قیس عیلان بشمولیت قبیلہ ہوازن دوسری طرف۔اس جنگ ا : طبری