سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 116
بلکہ چونکہ وہ ایک دائمی شریعت کا حامل ہے اس لئے اس نے قیامت تک کی ضروریات کے پیش نظر بہت سی نئی باتوں کو بھی زائد کر کے ایک کامل اور ابدی شریعت پیش کی ہے اور خدا کی طرف سے اس میں ایسے خواص ودیعت کر دیئے گئے ہیں کہ اس ظاہری عالم کی طرح وہ قیامت تک کے لئے بنی نوع انسان کی دینی ضروریات کا سامان اپنے اندر مخفی رکھتا ہے جو سب ضرورت ظاہر ہوتا رہتا ہے۔دراصل قرآن شریف مندرجہ ذیل تعلیمات کا مجموعہ ہے: اول گذشتہ صحف کے وہ حصے جو ایک دائمی اور عالمگیر شریعت کا جزو بن سکتے تھے۔دوم آئندہ کے لئے مختلف اقوامِ عالم کی ضروریات کے مناسب حال مستقل تعلیم جو حقوق العباد اور حقوق اللہ کی کامل ادا ئیگی اور ہر قسم کی اخلاقی اور روحانی ترقی کے لئے قیامت تک کے لئے ضروری تھی۔بہر حال یہ خیال کہ قرآن شریف یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت مسیحیت یا کسی اور مذہب کی تعلیم کا نتیجہ تھی، بالکل غلط اور باطل ہے اور ایسا دعویٰ وہی شخص کر سکتا ہے جو اسلامی تاریخ اور اسلامی تعلیم سے قطعا نا بلد ہے اور بالخصوص بحیرا راہب وغیرہ کی ملاقات کی طرف اسلامی تعلیمات کو منسوب کرنا تو ایک بالکل ہی مضحکہ خیز بات ہے جو کسی دانا شخص کی زبان پر نہیں آ سکتی۔آپ کا بکریاں چرانا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب شام کے سفر سے واپس آئے تو بدستور ابوطالب کے پاس ہی رہتے تھے مگر چونکہ عرب میں بچوں کو عموماً مویشی چرانے کے کام پر لگا دیتے تھے اس لئے اس زمانہ میں آپ نے بھی کبھی کبھی یہ کام کیا اور بکریاں چرائیں۔زمانہ نبوت میں فرمایا کرتے تھے کہ بکریاں چرانا بھی انبیاء کی سنت ہے۔اور میں نے بھی بکریاں چرائی ہیں۔چنانچہ ایک موقع پر سفر میں آپ کے اصحاب جنگل میں پہلو جمع کر کے کھانے لگے تو آپ نے فرمایا۔کالے کالے پیلو تلاش کر کے کھاؤ کیونکہ جب میں بکریاں چرایا کرتا تھا تو اس وقت کا میرا تجربہ ہے کہ کالے رنگ کے پیلو زیادہ عمدہ ہوتے ہیں کے لے : اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ انبیاء کا کام بھی اپنی نوعیت کے لحاظ سے گلہ بانی کا رنگ رکھتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ ان سے ان کی ابتدائی عمر میں چرواہے کا کام لے کر تصویری زبان میں یہ اشارہ کر دیتا ہے کہ اب تم انسانوں کی گلہ بانی کے لئے بھی تیار ہو جاؤ۔: بخاری کتاب بدء الخلق باب يعكفون على اصنام