سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 115 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 115

۱۱۵ اصول کو پیش کیا ہے کہ دُنیا کی ساری قوموں میں خدا کے رسول گزرے ہیں۔اور اس طرح اُس نے مسلمانوں کے دلوں میں تمام اقوامِ عالم کے بزرگوں کی عزت قائم کر دی ہے مگر یہ ایک بین حقیقت ہے کہ حضرت مسیح کی خدائیت اور عیسائی مذہب کے دوسرے اصولی عقائد کو اسلام نے نہایت سختی کے ساتھ رڈ کیا ہے اور حضرت مسیح کو ایک انسان رسول سے زیادہ حیثیت نہیں دی جو اپنی زندگی کے دن گزار کر دوسرے رسُولوں کی طرح وفات پاگئے پس مسیحی مذہب سے متأثر ہونے کا اعتراض بالکل غلط اور باطل ہے۔اور اگر یہ کہا جائے کہ مسیحی مذہب کی بعض دینی اور اخلاقی تعلیمات اسلام میں بھی پائی جاتی ہیں جس سے یہ خیال ہوسکتا ہے کہ اسلام نے ان تعلیمات کو مسیحیت سے اخذ کیا ہے تو یہ بھی ایک فضول اعتراض ہوگا کیونکہ اول تو جب کہ اسلام اور موجود الوقت مسیحیت کی بہت سی اصولی تعلیمات ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں تو کسی ضمنی حصہ میں ان دو تعلیموں کا آپس میں متشابہ ہونا ہرگز اس بات کی دلیل نہیں سمجھا جا سکتا کہ ایک تعلیم دوسرے سے ماخوذ ہے۔دوسرے جب کہ اسلام حضرت مسیح کو خدا کا ایک برگزیدہ رسول قرار دیتا ہے اور خود بھی خدا کی طرف سے ہونے کا مدعی ہے تو یہ لازمی تھا کہ بوجہ ایک ہی منبع سے نکلی ہوئی چیزیں ہونے کے اسلام اور مسیحیت کی بعض تعلیمیں ایک دوسرے کے متشابہ ہوتیں۔کیونکہ بہر حال ہدایت کے اصول ہر زمانہ اور ہر قوم کے لئے ایک ہی ہیں۔تیسرے قرآن شریف خود اس بات کا مدعی ہے کہ اس نے سب گذشتہ تعلیموں کی دائی صداقتوں کو اپنے اندر جمع کر لیا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے فيهَا كُتُبْ قَيْمَةٌ " یعنی قرآن کے اندر تمام گذشتہ صحف کی پختہ اور مستقل باتیں جمع کر دی گئی ہیں۔پس اس جہت سے بھی مسیحیت کی کوئی خصوصیت ثابت نہیں ہوتی۔۔اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ قرآن شریف نے اپنے اس خاصہ کو کہ اس میں گذشتہ تعلیمات کی سب دائمی صداقتیں اور پختہ اور مستقل باتیں شامل کر دی گئی ہیں ایک کمال کے رنگ میں پیش کیا ہے اور اس پہلو سے اسے گویا ایک شہد کی مکھی سے تشبیہ دی ہے۔جو ہر قسم کے پھل اور پھول سے اُس کا جو ہر لے کر باریک در بار یک کیمیائی رنگ میں ایک نہایت لطیف چیز تیار کر دیتی ہے جو باوجود مختلف پھلوں اور پھولوں کا جو ہر ہونے کے ایک بالکل ہی نئی چیز ہوتی ہے جسے کسی خاص پھل یا پھول کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔علاوہ ازیں قرآن شریف نے صرف گذشتہ صحف ہی سے اُن کی پختہ تعلیمات کو اخذ نہیں کیا ا : سورة فاطر: ۲۴ : سورة مینه آیت : ۴ ۳ : سورۃ نحل آیت : ۶۹