سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 108 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 108

1+A میں تلاش کرتے تھے۔جسے انہوں نے نکال کر پھینک دیا۔پھر حلیمہ اور حارث آپ کو اپنے خیمہ میں لے گئے اور حارث نے حلیمہ سے کہا۔” مجھے ڈر ہے کہ اس لڑکے کو کچھ ہو گیا ہے۔پس مناسب ہے کہ تو اسے فور آلے جا اور اس کی والدہ کے سپر د کر آ۔چنانچہ حلیمہ آپ کو مکہ میں لائی اور آمنہ کے سپر دکر دیا۔آمنہ نے اس جلدی کا سبب پوچھا اور اصرار کیا تو حلیمہ نے انہیں یہ سارا قصہ سُنا دیا اور یہ ڈر ظاہر کیا کہ شاید یہ لڑکا کسی جن وغیرہ کے اثر کے نیچے آ گیا ہے۔آمنہ نے کہا۔ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔میرابیٹا بڑی شان والا ہے۔جب یہ حمل میں تھا تو میں نے دیکھا تھا کہ میرے اندر سے ایک نور نکلا ہے جو دُور دراز ملکوں تک پھیل گیا ہے۔اس واقعہ کی فی الجملہ تائید صحیح مسلم کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعض بچوں کے ساتھ مل کر کھیل رہے تھے آپ کے پاس جبرائیل آئے اور آپ کو زمین پر لٹا کر آپ کا سینہ چاک کر دیا اور پھر آپ کے سینہ کے اندر سے آپ کا دل نکالا اور اس میں سے کوئی چیز نکال کر باہر پھینک دی اور ساتھ ہی کہا کہ یہ کمزوریوں کی آلائش تھی جو اب تم سے جدا کر دی گئی ہے۔اس کے بعد جبرائیل نے آپ کے دل کو مصفی پانی سے دھویا اور سینہ میں واپس رکھ کر اسے پھر جوڑ دیا۔جب بچوں نے جبرائیل کو آپ کو زمین پر گراتے اور سینہ چاک کرتے ہوئے دیکھا تو وہ گھبرا کر دوڑے ہوئے آپ کی دائی کے پاس گئے اور کہا کہ محمد کوکسی نے قتل کر دیا ہے۔جب یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو فرشتہ غائب تھا اور آپ ایک خوفزدہ حالت میں کھڑے تھے یہ صحیح مسلم کی تصدیق کے بعد ابن ہشام کی روایت کو ایک ایسی تقویت حاصل ہو جاتی ہے کہ بلا کسی قوی دلیل کے ہم اسے کمزور کہہ کر رد نہیں کر سکتے۔مگر ظاہر ہے کہ یہ واقعہ ایک کشفی نظارہ تھا۔چنانچہ لے : اس جگہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ حلیمہ اور حارث نے وہاں کوئی خون بہا ہوانہیں پایا اور نہ شق صدر کی کوئی اور علامت دیکھی اور نہ ہی کوئی باہر پھینکی ہوئی چیز انہیں نظر آئی۔: یعنی یہ کسی جن وغیرہ کے اثر کے نیچے آ گیا ہے۔: مسلم جلد ا باب الاسراء ۵ : بعض ناظرین شاید کشف کی اصطلاح سے واقف نہ ہوں ، اس لیے ان کی واقفیت کی غرض سے لکھا جاتا ہے کہ جس طرح انسان کو رات کے وقت سوتے ہوئے کوئی نظارہ دکھایا جاتا ہے جسے وہ اُس وقت اصلی سمجھتا ہے حالانکہ وہ دراصل خواب ہوتا ہے اسی طرح بعض اوقات ایسے نظارے خدا کے خاص بندوں کو بیداری کی حالت : ابن ہشام