سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 101
1+1 ایک شریف مزاج رئیس تھا۔عبداللہ چاہ زمزم کے واقعہ کے بعد عبدالمطلب بڑا صاحب اثر ہو گیا اور خدا کی قدرت کہ اس کی اولاد بھی جلد جلد بڑھنے لگی۔حتی کہ آخر ان کی تعداد دس تک پہنچ گئی۔جب یہ لڑ کے جوان ہو گئے اور ایفائے نذر کا وقت آ گیا تو عبدالمطلب اُن سب کو اپنے ساتھ لے کر کعبہ کی طرف گیا اور وہاں جا کر ھبل کے سامنے قرعہ اندازی کی۔اللہ کی قدرت کہ قرعے کا تیر سب سے چھوٹے لڑکے عبداللہ کے نام نکلا جوعبدالمطلب کوسب سے زیادہ عزیز تھا۔اس وقت عبدالمطلب کی جو حالت تھی وہ بیان میں نہیں آ سکتی ، مگر عبدالمطلب قول کا پکا تھا اور نذر بہر حال پوری کرنی تھی اس لیے وہ عبداللہ کو لے کر ذبح کرنے کے واسطے روانہ ہوا اور عبد اللہ بھی سر تسلیم خم کئے اپنے باپ کے ساتھ ہو لیا جب رؤسائے قریش کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے عبدالمطلب کو اس سے روکا اور آخر ایک واقف کار کے مشورہ سے یہ قرار پایا کہ عبداللہ اور دس اونٹوں کے درمیان قرعہ ڈالا جائے اور اگر اونٹوں کے نام قرعہ نکلے تو عبداللہ کی جگہ دس اونٹ قربان کر دیئے جاویں کہ یہی اس زمانے میں ایک آدمی کا خون بہا تھا۔چنانچہ عبدالمطلب نے عبد اللہ اور دس اونٹوں کے درمیان قرعہ ڈالا ،مگر پھر بھی تیر عبداللہ ہی کے نام نکلا۔عبدالمطلب نے دس اور زائد کئے اور ہمیں پر قرعہ ڈالا ، لیکن اب کی دفعہ بھی عبد اللہ ہی کا نام نکلا۔دس اور زائد کئے گئے ، لیکن پھر بھی عبداللہ ہی کا نام تھا۔چالیس، پچاس، ساٹھ ، ستر ، اسی ، نوے مگر ہر دفعہ عبداللہ کا نام آتا تھا۔آخر سو تک نوبت پہنچی اور اب کی مرتبہ قرعہ اونٹوں کے نام نکلا۔لیکن اس پر بھی عبد المطلب نے مزید تسلی کے واسطے پھر دو دفعہ قرعہ ڈالا مگر دونوں دفعہ اونٹوں کا نام نکلا۔جس پر سو اونٹ ذبح کئے گئے اور عبد اللہ کی جان بچی۔۔اس وقت سے قریش میں ایک آدمی کا خون بہا سو اونٹ مقرر ہو گئے کے اصحاب الفیل عبدالمطلب کے زمانہ میں یمن کا علاقہ افریقہ کے ملک حبشہ کے ماتحت تھا جو ان ایام میں ایک طاقتور حکومت کا مرکز تھا اور چونکہ حبشہ ایک عیسائی ملک تھا اس لئے یمن کا گورنر بھی عیسائی ہوا کرتا تھا۔عبدالمطلب کے زمانہ میں یمن کے والی کا نام ابر ہتہ الاشرم تھا۔یہ شخص کعبہ سے سخت دشمنی رکھتا تھا اور چاہتا تھا کہ کسی طرح عرب کے لوگوں کو کعبہ سے پھیر دے۔چنانچہ اُس نے کعبہ کے مقابلہ پر یمن میں ایک معبد تیار کیا اور لوگوں میں تحریک کی کہ وہ بجائے کعبہ کے اس عبادت گاہ کے حج کے لیے آیا کریں۔عرب کی فطرت بھلا اس بات کو کس طرح برداشت کر سکتی تھی کہ عرب کی سرزمین میں ل : ابن سعد ذکر عبدالمطلب سے : ابن ہشام وابن سعد وزرقانی : ابن سعد