سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 99 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 99

۹۹ لیے ہاشم کی وفات پر اس کی جگہ اس کے بڑے بھائی مطلب نے لی یعنی سقایہ اور رفادہ کے کام اس کے سپرد ہوئے۔جب مطلب کو کسی شخص نے اس کے بھتیجے شیبہ بن ہاشم کی ہوشیاری اور ہونہاری کی خبر دی تو وہ فوراً مدینہ جا کر شیبہ کو لے آیا۔مکہ میں جب چا بھیجے داخل ہوئے تو لوگوں نے خیال کیا کہ شاید مطلب کوئی غلام کا لڑکا لایا ہے۔اسی لیے شیبہ کا نام عبد المطلب یعنی مطلب کا غلام مشہور ہو گیا۔یہ وہی عبد المطلب ہیں جو ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا ہیں اور جن کی آغوش میں آپ نے اپنی عمر کے ابتدائی آٹھ سال گزارے۔عَبْدَ الْمُطَّلب مطلب کی پوزیشن چونکہ صرف ایک گارڈین کی تھی اس لیے اس کی تولیت کے وہ مناصب جو عبد مناف کے گھرانے میں تھے اس کی وفات کے بعد عبدالمطلب کو ملے کیونکہ اپنے بھائیوں میں یہی سب سے ہوشیار تھا۔عبدالمطلب نہایت سمجھدار اور قابل شخص تھا مگر چونکہ اس وقت وہ نوجوان تھا اور اپنی عمر کا ایک حصہ باہر گزار کر آیا تھا، اس لیے شروع شروع میں اُسے اپنی پوزیشن کو قائم رکھنے کے لیے بہت مشکلات کا سامنا ہوا۔چنانچہ سب سے پہلے تو عبدالمطلب کی وراثت میں اس کے چچا نوفل بن عبد مناف نے جھگڑا کیا۔عبدالمطلب نے قریش سے اپیل کی لیکن قریش نے اس معاملہ میں دخل دینے سے انکار کر دیا۔جس پر عبدالمطلب نے یثرب میں اپنی ننھیال بن نجار کو کہلا بھیجا کہ میرا چچا میری وراثت میں بے جا مداخلت کرتا ہے۔وہاں سے فوراً اسی بہادر اپنے نواسے کی مدد کو مکہ پہنچ گئے۔جس وقت یہ لوگ مکہ میں پہنچے تو اس وقت نوفل چند آدمیوں کے ساتھ مسجد حرام میں بیٹھا تھا۔انہوں نے آتے ہی اُسے کہا کہ ہمارے نواسے شیبہ بن ہاشم کو اس کا سارا اور نہ دے دو۔ورنہ اچھا نہ ہو گا۔نوفل مرعوب ہو گیا اور اُس نے مداخلت سے ہاتھ کھینچ لیا۔بنوعبد الشمس اور بنو ہاشم کے درمیان رنجش پیدا ہو جانے کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔اب بنو نوفل کے تعلقات بھی کشیدہ ہو گئے۔گویا عبد مناف بن قصی کے باقی بیٹوں میں سے بنو ہاشم کے ساتھ صرف بنو مطلب کے تعلقات اچھے رہے اور اس طرح اس خاندان میں دو پارٹیاں بن گئیں۔ایک طرف بنو ہاشم اور بنو مطلب تھے اور دوسری طرف بنو نوفل اور بنو عبد شمس۔اس جتھہ بندی کا یہاں تک اثر تھا کہ جب بنو ہاشم اور دیگر مسلمانوں کو کفار مکہ نے شعب ابی طالب میں محصور کر دیا تو اس وقت بھی بنو مطلب نے بنو ہاشم کا ساتھ دیا اور قریش سے الگ رہے مگر بنو نوفل اور بنوعبد شمس نے کفار کا ساتھ دیا اور بنو ہاشم کی مخالفت کی۔مطلب نے جو حسنِ سلوک کا معاملہ عبدالمطلب سے کیا تھا وہ بھی ل : ابن ہشام