سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 97 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 97

۹۷ نہ ہو۔بیاہ شادی کے لیے بھی قریش دارالندوہ میں ہی جمع ہوتے تھے اور یہیں اپنی رسوم ادا کرتے تھے۔اگر کہیں جنگ پر باہر جانا ہوتا تھا یا کسی تجارتی قافلہ کو روانہ ہونا ہوتا تو لوگ یہیں سے جمع ہو کر روانہ ہوتے تھے۔دارالندوہ کا انتظام قصی نے خود اپنے پاس رکھا تھا۔قصی کے ان غیر معمولی کارناموں نے اسے تمام اطراف عرب میں مشہور کر دیا تھا اور قریش کا تو گویا وہ ایک قسم کا بادشاہ تھا، مگر اس انتظام سلطنت سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ قریش کے اندر کوئی با قاعدہ سلطنت تھی یا یہ کہ افراد کی آزادی پر کوئی خاص پابندیاں تھیں بلکہ یہ انتظام صرف اہم قومی معاملات کو آسانی کے ساتھ طے کرنے کے واسطے کیا گیا تھا اور یہ بھی ضروری نہیں کہ فرائض کی یہ تفصیلی تقسیم سب کی سب قصی کے اپنے ہاتھ سے مکمل ہوئی ہو بلکہ ممکن ہے کہ کوئی شاخ اس سے پہلے کی ہو یا کوئی شاخ بعد میں حسب ضرورت قائم کی گئی ہومگر بہر حال اس کام کی اصولی داغ بیل قصی ہی کے ہاتھ سے قائم ہوئی تھی۔قصی کے چار بیٹے تھے۔عبدالدار، عبدالعزکی ، عبد مناف اور عبد قصی۔عبدالدار چونکہ بڑا عبد مناف تھا اس لیے قصی نے مرتے ہوئے اپنے تمام کام یعنی کعبہ کی تولیت کے تینوں مناصب اور دارالندوة اورلو اء اس کے سپر د کئے ،مگر عبدالدار اپنے باپ کی قابلیت کا آدمی نہ تھا اس لیے قریش کی عام ریاست عبد مناف نے حاصل کی جو بہت لائق اور قابل آدمی تھا۔عبد مناف کے چار بیٹے تھے۔عبد شمس ، مطلب، ہاشم اور نوفل۔یہ چاروں باپ کی طرح قابل تھے۔چنانچہ عبد مناف کی وفات کے بعد ان سب نے مل کر اس بات کی کوشش کی کہ عبدالدار کی اولاد سے کعبہ کی تولیت چھین لیں۔اس پر طرفین کا باہم جھگڑا ہو گیا۔قریش کے بعض قبائل ایک طرف ہو گئے اور دوسرے دوسری طرف۔اور قریب تھا کہ جنگ شروع ہو جاتی مگر آخر صلح صفائی کے ساتھ فیصلہ ہو گیا اور دو مناصب یعنی رفادہ اور سقایہ بنوعبد مناف کومل گئے اور باقی تین مناصب یعنی دارالندوہ کا انتظام لواء اور حــجــابـه بنوعبدالدار کے پاس رہے۔بنو عبد مناف نے آپس میں مشورہ کے ساتھ سقایہ اور رفادہ کا متولی ہاشم کو مقرر کر دیا۔ہاشم نہایت قابل ، معاملہ فہم اور سخی آدمی تھا۔اُس نے حاجیوں کو بہت آرام پہنچایا اور قریش کے سامنے بہت زوردارا پہلیں کر کر کے اُن کی مختلف ضروریات کے واسطے سامان مہیا کئے۔اُس کے زمانہ میں ایک دفعہ سخت قحط پڑا تو اس نے اپنے پاس سے اخراجات کر کے قحط کے ایام میں غرباء کو کئی طرح سے مدد دی۔ان فیاضیوں کی وجہ سے ہاشم کا نام بہت شہرت پا گیا۔اس کے علاوہ ہاشم نے خود جا جا کر ا : ابن سعد