سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 95
۹۵ بعض افراد اس شجرہ میں ایسے نظر آئیں گے جن کی طرف کوئی قبیلہ منسوب نہیں حالانکہ وہ قریش میں خاص شہرت رکھتے تھے۔اس کی یہ وجہ ہے کہ عرب کی اقوام میں یہ دستور تھا کہ جب تک تو ایک شخص کی اولاد میں اتحاد واتفاق رہتا تھا وہ اس کی طرف منسوب ہوتی تھی لیکن جب آپس میں عداوت اور رقابت ہو جاتی تھی تو طرفین ایک واحد مورث کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے اپنے قبیلہ کے واسطے مشترک مورث کے نیچے کسی اور مشہور آدمی کا نام اختیار کر لیتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ قصی کی اولاد قصی کی طرف منسوب نہیں بلکہ اُن میں سے کوئی بنو ہاشم بن گئے اور کوئی بنوامیہ اور کوئی بنوعبدالدار وغیرہ۔حالانکہ ان میں سے کوئی شخص بھی قصی کی سی شہرت کا نہ تھا۔قصی بن کلاب نضر بن کنانہ اور فہر بن مالک اپنے اپنے زمانہ میں بہت نامور اور صاحب اقتدار اشخاص گذرے ہیں۔ان کے بعد پانچویں صدی عیسوی میں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قریباً سو ڈیڑھ سو سال پہلے قصی بن کلاب نے قریش میں بہت اقتدار حاصل کیا۔یہ شخص ایک غیر معمولی قابلیت کا مالک تھا۔قبیلہ خزاعہ سے اس کے کعبہ کی تولیت چھین لینے کا ذکر اوپر گذر چکا ہے اور یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ قصی نے تمام قبائلِ قریش کو اکٹھا کر کے مکہ میں آباد کیا۔اسی واسطے اُسے مُجمع یعنی جمع کرنے والا بھی کہتے ہیں مگر قصی کا کام اس پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس نے اپنی قوم کی ایک باقاعدہ تنظیم کی اور مکہ میں گویا ایک جمہوری سلطنت کی بنیاد ڈالی ، جس کی تفصیل اس طرح پر ہے کہ قصی نے کعبہ کی تولیت اور قبیلہ قریش کے دوسرے انتظامی کاموں کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے ان فرائض کی ادائیگی قریش کے مختلف قبائل کے رؤساء کے سُپر دکر دی۔تولیت کعبہ کے مناصب کی تقسیم اس انتظام کے ماتحت کعبہ کی تولیت کے کام یہ مقرر کئے گئے: -1 -٢ سقایہ یعنی ایام حج میں حاجیوں کے واسطے پانی کا انتظام۔چونکہ مکہ میں پانی کی بہت قلت تھی کیونکہ زمزم کا چشمہ ایک عرصہ سے اٹ کر گم ہو چکا تھا اور اگر وہ ہوتا بھی تو چونکہ حج کے موقعوں پر غیر معمولی تعداد میں لوگ جمع ہوتے تھے اس لیے یہ کام خاص انتظام چاہتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں یہ کام بنو ہاشم میں تھا اور عباس بن عبدالمطلب کے سُپر دتھا۔رفاده یعنی ایام حج میں غریب حاجیوں کی اعانت کا انتظام۔اس کام کے لیے قریش میں ہر سال چندہ جمع ہوتا تھا۔زمانہ نبوی میں یہ کام بن نوفل میں تھا اور حارث بن عامر کے سپر دتھا۔