سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 90 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 90

۹۰ دیتا اور اس کے موجودہ دروازے کے مقابل پر ایک اور درواز ہ بھی لگواتا “ چنانچہ ۲۴ ھ میں جب کسی وجہ سے کعبہ کی عمارت کو نقصان پہنچا تو عبد اللہ بن زبیر نے جو اس وقت مکہ کے حاکم تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خواہش کو پورا کیا اور کعبہ کے اندر بجائے چھ ستونوں کے صرف تین ستون بنوائے ،لیکن عبدالمالک بن مروان نے جب مکہ پر غلبہ پایا تو غالباً اس خیال سے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام کو نہیں کیا تو اور کسی کو بھی اس کا حق نہیں ہے، حجاج بن یوسف کو حکم دیا کہ عبداللہ بن زبیر کی تعمیر کو گرا کر پھر اسی رنگ میں عمارت بنوادی جاوے جس طرح وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی ؟ چنانچہ حجاج نے ایسا ہی کیا مگر تین ستونوں والی تبدیلی کو بحال رکھائے كسوة كعبه شروع شروع میں کعبہ پر کوئی غلاف وغیرہ نہ ہوتا تھا، لیکن بعد میں یمن کے ایک بادشاہ تبع اسد نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ وہ کعبہ کو غلاف چڑھا رہا ہے چنانچہ اس نے کعبہ پر غلاف چڑھوا دیا۔اس کے بعد غلاف چڑھانے کی رسم جاری ہو گئی۔چنانچہ قریش کعبہ پر ہمیشہ غلاف چڑھایا کرتے تھے۔اسلام میں بھی یہ رسم جاری رہی۔چنانچہ آج تک کعبہ پر باقاعدہ ہر سال نیا قیمتی غلاف چڑھایا جاتا ہے اور پرانا غلاف اتار کر حاجیوں میں تقسیم یا فروخت کر دیا جاتا ہے۔آجکل جو غلاف چڑھایا جاتا ہے وہ سیاہ رنگ کا ہوتا ہے اور اس پر جگہ جگہ کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات لکھی ہوئی ہوتی ہیں۔حُرمت کعبہ زمانہ جاہلیت کے عربوں میں کعبہ کی عزت غالباً کچھ اس سے بھی زیادہ تھی جو مسلمانوں کے دلوں میں ہے کیونکہ وہ کعبہ کو گویا ایک قسم کا معبود سمجھتے تھے اور اس پر چڑھاوے چڑھاتے تھے۔یہ چڑھاوے ایک زمین دوز خزانہ میں کعبہ اور اس کے پجاریوں اور حجاج کی ضرورت کے واسطے محفوظ رکھے جاتے تھے۔کعبہ خود تو حرم تھا ہی اس کے طفیل سے مکہ بلکہ مکہ کے آس پاس کا علاقہ بھی حرم قرار دیا گیا تھا جہاں ہر قسم کا گشت و خون ممنوع تھا اَشْهُرِ حُرم کی خصوصیت بھی کعبہ ہی کی وجہ سے تھی تا کہ حاجی لوگ امن کے ساتھ بغیر کسی خوف و خطر کے حج کے واسطے آ جاسکیں۔یہ بھی دستور تھا کہ جس چیز کی خاص طور پر حرمت ظاہر کرنی ہو وہ کعبہ پر آویزاں کر دی جاتی تھی۔چنانچہ زمانہ جاہلیت کی سات مشہور نظمیں کعبہ پر آویزاں کئے جانے کی وجہ سے ہی سبع معلقات کہلاتی ہیں۔ل : بخاری کتاب الحج باب وجوب الحج وفضله از رقی وطبری و تاریخ کامل ابن اثیر و خمیس : ازرقی