سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 89
۸۹ فریقین قبول کر لیں۔چنانچہ ایک شخص عمرو بن عوف ثالث مقرر ہوا جس نے یہ فیصلہ دیا کہ کعبہ کی تولیت کا اصل حقدار قصی ہے اور یہ کہ جتنے آدمی قبیلہ خزاعہ کے مارے گئے ہیں ان کا کوئی فید یہ نہیں لیکن قصتی کے تمام مقتولوں کا فدیہ قبیلہ خزاعہ ادا کرے۔اس طرح ایک بڑے لمبے عرصہ کے بعد کعبہ کی تولیت پھر بنو اسمعیل میں آگئی یا اور چونکہ کعبہ کی تولیت دنیوی جاہ و اقتدار کا ذریعہ بھی تھی کیونکہ وہ قبیلہ جس کے ہاتھ میں یہ تولیت ہوتی تھی تمام عرب میں خاص عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا، اس لیے قریش اس ذریعہ سے بہت معز ز مکرم ہو گئے۔کعبہ کی دوبارہ سہ بارہ تعمیر ہر دنیوی چیز کے ساتھ ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ لگا ہوا ہے؛ چنا نچہ کعبہ بھی حضرت ابراہیم کی تعمیر کے بعد کئی دفعہ گرا اور کئی دفعہ بنا۔بعض اوقات کسی سیلاب کے زور سے جو مکہ کی وادی میں کبھی کبھی آجاتا تھا اس کی عمارت کو نقصان پہنچ جاتا تھا اور اس کے متولی اسے گرا کر پھر تعمیر کرتے تھے اور بعض اوقات آگ یا کسی اور حادثہ کے نتیجہ میں ایسا کرنا پڑتا تھا۔چنانچہ ہر اس قوم کو کعبہ کی تعمیر کرنی پڑی جس کے ہاتھ میں اس کی تولیت گئی۔بنو جرھم، خزاعہ اور قریش سبھی نے اپنے اپنے وقت میں اس کی تعمیر کی۔قصی نے بھی ایک دفعہ اس کی تعمیر کی اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قریش نے اسے دوبارہ تعمیر کیا اور انہوں نے اس کے اندر کچھ ترمیمات بھی کیں۔چنانچہ انہوں نے اس کی بلندی کو زیادہ کر کے اُس کے اُوپر چھت ڈالی اور اس کے اندر چھ ستون بنائے اور چھت میں ایک روشندان بنایا اور کعبہ کے دروازے کو اونچا کر دیا۔مگر چونکہ ان کے پاس سامان تھوڑا تھا اس لیے وہ کعبہ کو اس کی اصل ابراہیمی بنیادوں پر کھڑا نہ کر سکے، بلکہ انہوں نے ایک طرف کو قریباً سات ہاتھ جگہ چھوڑ دی۔اس چھوڑے ہوئے حصہ کو حطیم یا حجر کہتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کعبہ کا حصہ ہی قرار دیا ہے۔چنانچہ طواف کے وقت اس حصہ کے باہر سے ہوکر گذرنا ضروری ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ عائشہ سے فرمایا کہ حطیم خانہ کعبہ کا ہی حصہ ہے اور قریش نے اسے اس لیے باہر چھوڑ دیا تھا کہ ان کے پاس خرچ تھڑ گیا تھا اور انہوں نے کعبہ کے دروازے کو اس لیے اونچا کر دیا تھا کہ تا وہ جسے چاہیں اندر آنے دیں اور جسے چاہیں روک دیں اور اے عائشہ اگر تیری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوئی ہوتی اور مجھے اُن کے تزلزل کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کی تعمیر کردہ عمارت کو گرا کر پھر اصل ابراہیمی بنیادوں پر ساری عمارت کو تعمیر کرتا اور حطیم کو اس کے اندر شامل کر دیتا اور اس کے دروازہ کو نیچا کر ل : ابن ہشام وطبری