سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 88
۸۸ اُسے اُوپر سے بند کر دیا اور اس طرح جب قبیلہ خزاعہ کے لوگ مکہ میں داخل ہوئے تو یہ مقدس چشمہ غائب تھا اور پھر یہ سینکڑوں سال تک بندر ہاحتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے اس کا نشان پتہ لگا کر اسے پھر جاری کیا۔بہر حال قبیلہ جرہم کے بعد قبیلہ خزاعہ ملکہ کا حاکم اور کعبہ کا متولی ہوائے کعبہ میں بت پرستی کی آمد اسی قبیلہ خزاعہ کے رئیس عمرو بن لھی کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔یہ جسے شام میں بت پرستوں کو بت پوجتے دیکھ کر یہ خواہش پیدا ہوئی تھی کہ کعبہ میں بھی ایسے بُت ہوں اور لوگ انہیں پوجیں۔چنانچہ اس نے چند بُت شام سے لا کر کعبہ کے آس پاس قائم کئے۔۔چونکہ اس وقت کعبہ عرب کا مذہبی مرکز بن چکا تھا اور لوگ ہر سال یہاں حج کے واسطے جمع ہوتے تھے اس لیے اس ذریعہ سے تمام ملک میں بت پرستی پھیل گئی۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے پہلے عرب کے کسی حصہ میں بُت پرستی نہ تھی بلکہ صرف یہ مقصد ہے کہ کعبہ میں بتوں کی آمد عرب کے ہر حصہ میں بُت پرستی کے پھیل جانے اور مستحکم ہو جانے کا بڑا باعث ہوئی ؛ چنانچہ اس کے بعد آہستہ آہستہ صرف کعبہ میں بتوں کی تعداد ۳۶۰ تک پہنچ گئی۔ایک بڑے عرصہ کے بعد کعبہ کی تولیت قبیلہ خزاعہ کے ہاتھ سے بھی نکل گئی۔اس کی وجہ لکھتے ہوئے مؤرخین ایک عجیب قصہ بیان کرتے ہیں جس کا یہاں درج کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔فہر بن مالک کی اولاد یعنی قبیلہ قریش میں پانچویں صدی عیسوی کے نصف کے قریب ایک شخص گذرا ہے جس کا نام قصی بن کلاب تھا۔یہ بہت سمجھدار شخص تھا اور نو جوانی کے ایام میں ہی اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوگئی تھی کہ مکہ کی حکومت اور کعبہ کی تولیت اسماعیل کی اولا د کا ورثہ ہے جو کسی اور قوم کے ہاتھ میں نہیں رہنا چاہیے۔چنانچہ وہ مکہ آیا اور آہستہ آہستہ رسوخ پیدا کر کے حلیل بن حبشیہ خزاعی کی لڑکی حبیبی سے شادی کر لی جو اس زمانہ میں قبیلہ خزاعہ کا رئیس تھا اور اس وقت اُسی کے ہاتھ میں کعبہ کی تولیت تھی۔حلیل جب مرنے لگا تو اس نے یہ وصیت کی کہ میرے بعد کعبہ کی تولیت میری لڑکی حبسی زوجہ قصی کے سپرد ہو۔اس طرح کعبہ کی تولیت عملا قصی کے ہاتھ میں آ گئی۔مگر قصتی کا دل صرف ایک مختار کی حیثیت پر تسکی نہیں پاسکتا تھا بلکہ وہ ایک اصل حقدار کے طور پر ملکہ کا حاکم اور کعبہ کا متولی بننا چاہتا تھا۔چنانچہ اس نے آہستہ آہستہ اپنا حق جمانا شروع کیا۔جب قبیلہ خزاعہ کے لوگوں کو اس کا علم ہوا تو وہ سخت برہم ہوئے اور لڑائی پر آمادہ ہو گئے۔اُدھر قصی نے بھی اپنی قوم کے لوگ جمع کر لیے اور دونوں قبیلوں کے درمیان سخت جنگ ہوئی۔آخر اس بات پر صلح ہوئی کہ کسی شخص کو ثالث مقرر کیا جاوے۔جو فیصلہ یہ ثالث کرے اُسے ل : ابن ہشام : بخاری باب قضہ خزاعه : ابن ہشام