سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 898
۸۹۸ پر ایمان لانے کی وجہ سے عیسائیوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی رکھتے تھے۔یہ وہ وقت تھا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر وہ پیشگوئی فرمائی جو قرآن شریف کی سورۃ روم کے شروع میں بیان ہوئی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں: غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَن يَشَاء وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ) وَعْدَ اللهِ لَا يُخْلِفُ اللهُ وَعْدَهُ وَلَكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ) یعنی رومی لوگ قریب ترین زمین میں مغلوب کئے گئے لیکن وہ اپنی مغلوبی کے بعد عنقریب غالب آئیں گے۔یہ تغیر نو سالوں کے اندر اندر ہوگا۔اور اس سے پہلے اور اس کے بعد اصل حکومت تو صرف خدا ہی کی ہے۔( یعنی اس سے پہلے روحانی حکومت خدا کی ہے اور اس کے بعد ظاہری حکومت بھی اسلام کے غلبہ کے ذریعہ خدا ہی کی ہونے والی ہے ) اور اس دن مومن خوش ہوں گے اللہ کی مدد کی وجہ سے۔وہ مدددیتا ہے جسے چاہتا ہے کیونکہ وہ طاقتور اور رحیم خدا ہے۔یہ خدا کا پختہ وعدہ ہے اور خدا اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔“ یہ قرآنی آیات اس وقت نازل ہوئیں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکہ میں تشریف رکھتے تھے اور کسریٰ کی فتوحات کا سیلاب پورے زور میں تھا حتی کہ وہ قیصر کا بہت سا علاقہ چھین کر اور شام اور مصر اور ایشیائے کو چک کو تاراج کر کے قیصر کے دارالسلطنت قسطنطنیہ کے دروازے کھٹکھٹا رہا تھا مگر اس قرآنی پیشگوئی کے مطابق جنگ نے اچانک پلٹا کھایا اور چند سال کی جدوجہد کے بعد قیصر کی فوجوں نے نہ صرف اپنا سارا علاقہ واپس چھین لیا بلکہ کسری کے علاقہ میں بھی یلغار کرتی ہوئی گھس گئیں۔یہ وہ عظیم الشان پیشگوئی تھی جس کی صداقت کو غیر مسلم مؤرخین بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں چنانچہ ان واقعات کے متعلق سرولیم میورلکھتا ہے : قریب قریباً اس زمانہ سے لے کر جب کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے نبوت کا دعوی کیا روما اور فارس کی حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف ایک خونی جنگ لڑ رہی تھیں۔۶۲۱ عیسوی تک : سورة الروم : ۳ تا ۷ بضع کا لفظ عربی زبان میں تین سے لے کر نو سال تک کے عرصہ کے لئے آتا ہے (اقرب الموارد)