سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 880
۸۸۰ مطالبہ کس طرح کر سکتے ہو کہ یہ مدنی سیاست سے خارج لوگ جہاں جہاں بھی ہوں انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حکم دے کر اور ان پر اپنی سیاست قائم کر کے مکہ پہنچائیں ؟ تم نے خود یہ شرط پیش کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں کی روحوں پر اور ان کے امور اُخروی پر تو بیشک حکومت کریں مگران کی سیاست اور دنیوی امور پر حاکم نہ بنیں اور جب تم نے خود انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست سے نکال دیا تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیسا؟ بہر حال یہ قریش مکہ کا اپنا مکر تھا جو خود انہی پر لوٹ کر گرا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن بہر صورت پاک تھا اور پاک رہا۔آپ نے معاہدہ کے الفاظ کو بھی پورا کیا اور ابو بصیر کو مکہ والوں کے سپرد کرتے ہوئے مدینہ سے رخصت کر دیا اور پھر آپ نے معاہدہ کی روح کو بھی پورا کیا کہ جیسا کہ اس شرط کا اصل منشا تھا۔آپ نے ابو بصیر اور اس کے ساتھیوں کو اپنی سیاست کے دائرہ سے خارج رکھا۔پس آپ ہر جہت سے بچے رہے اور کفار مکہ اپنے ہی پھیلائے ہوئے جال کا خود شکار ہو کر رہ گئے اور بالآخر خود ذلیل ہو کر آپ کے پاس آئے کہ ہم اس شرط کو معاہدہ سے خارج کرتے ہیں۔اور یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ کہ کر کہ وَيْلُ أُمِّهِ مُسْعِرُ حَرُبٍ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ (یعنی اس کی ماں کے لئے خرابی ہو یہ شخص تو جنگ کی آگ بھڑ کار رہا ہے۔کاش کوئی اسے سنبھالنے والا ہو ) ابوبصیر کو اشارہ کیا تھا کہ تم الگ پارٹی بنا کر قریش سے جنگ شروع کردو، کتنا ظلم اور کتنی گندی ذہنیت اور حالات پیش آمدہ سے کتنی جہالت ہے ! یہ الفاظ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور نا واجب جنگ سے آپ کی بیزاری کا بین ثبوت ہیں اور اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ آپ ابوبصیر کے اس فعل سے بریت اور بیزاری کا اظہار فرمارہے ہیں نہ یہ کہ اسے کوئی مخفی اشارہ دے کر جنگ پر ابھارنا چاہتے ہیں۔اور اگر کوئی شخص یہ خیال کرے جیسا کہ سرولیم میور نے خیال کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری الفاظ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر اسے کوئی ساتھی مل جائے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کا یہی منشا تھا کہ اگر ابو بصیر کو کوئی ساتھی مل جائے تو وہ جنگ کی آگ بھڑکا سکتا ہے اور اس طرح اس کلام میں گویا جنگ کی انگیخت کا اشارہ پایا جاتا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ اول تو جو معنی ہم نے کئے ہیں وہ عربی محاورہ کے عین مطابق ہیں جس کی مثالیں حدیث میں بھی کثرت سے ملتی ہیں۔علاوہ ازیں اگر بالفرض دوسرے معنی جائز بھی ہوں تو پھر بھی عبارت کے سیاق وسباق کے ماتحت اس فقرہ کا مطلب اس کے سوا کوئی اور نہیں لیا جا سکتا کہ اگر ابو بصیر کو اس کا کوئی ہم خیال ساتھی مل جائے تو یہ جنگ کی