سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 847
۸۴۷ ہو سکتی وہ کسی حقیقی ضرورت کے وقت اپنے ایسے قانون کو جو اس کی کسی سنت یا وعدہ کے دائرہ سے تعلق نہیں رکھتا خاص استثنائی رستہ پر چلا سکتا ہے یا بعض مخفی اسباب کے ذریعہ ایک ایسا ظاہری تغیر پیدا کرسکتا ہے جو بظاہراستثنا کا رنگ رکھتا ہو اور اسی استثنایا خاص تقدیر الہی کے غیر معمولی ظہور کا نام معجزہ ہے۔اور معجزہ کی ضرورت اس طرح ثابت ہے کہ جیسا کہ ہر سمجھ دار انسان محسوس کرے گا محض عقلی دلیلوں کا وجود خدا کے متعلق اس حد تک کا ایمان ہرگز پیدا نہیں کر سکتا جو انسان کی روحانی زندگی کے لئے ضروری ہے کیونکہ عقلی دلیلیں زیادہ سے زیادہ یہ ثابت کر سکتی ہیں کہ اس کارخانہ عالم کا کوئی خالق و مالک ہونا چاہئے مگر ظاہر ہے کہ یہ ہونا چاہیے والا مقام محض ایک قیاس کا مقام ہے جسے قطعی اور زندہ یقین میں بدلنے کے لئے جسے ہم ” ہے کے مقام سے تعبیر کر سکتے ہیں الہام الہی اور معجزہ کی ضرورت پیش آتی ہے۔اس لئے ہر نبی اور رسول کے ساتھ معجزہ کا وجود لازم و ملزوم کے طور پر رہا ہے اور اسلامی معجزات سے انکار کرنے والوں کی خود اپنی کتب معجزات کے ذکر سے ( جن میں افسوس ہے کہ اکثر فرضی اور بلاثبوت اور سنت الہی کے خلاف ہیں ) بھری پڑی ہیں۔باقی رہا مشاہدہ کا سوال سوجن ابتدائی لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات بیان کئے ہیں وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور دن رات آپ کی صحبت میں رہنے والے تھے انہوں نے اپنا ذاتی مشاہدہ ہی بیان کیا ہے اور ظاہر ہے کہ اگر روایت صحیح ہوا اور راوی سچ بولنے والا اور سمجھ دار ہو تو یہ مشاہدہ اسی طرح قابل قبول ہے جس طرح کہ دنیا کے دوسرے پختہ مشاہدات قابل قبول ہوتے ہیں اور گوموجودہ مادی زمانہ میں روحانی اہل کمال کا وجود عنقا کا رنگ رکھتا ہے مگر اس زمانہ میں بھی مقدس بانی سلسلہ احمدیہ نے معجزات کے متعلق معترضین کو جواب دیتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ : کرامت گرچہ بے نام و نشان است بیا بنگر ز غلمان یعنی گو اس زمانہ میں معجزات کا وجود بے نام ونشان ہو چکا ہے مگر اے منکر اسلام ! آ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے ہاتھ پر معجزات کا مشاہدہ کر لے۔“ ایک اور اصولی بات جو معجزات کے متعلق یاد رکھنی ضروری ہے اور جسے نظر انداز کرنے سے اکثر مذاہب میں بعد میں آنے والوں کی دست برد سے جھوٹے اور فرضی معجزات کا وجود پیدا ہو گیا ہے یہ ہے کہ معجزات کی غرض و غایت چونکه ایمان پیدا کرنا یا پیدا شده ایمان کو مضبوط کرنا ہوتی ہے اور ایمان کے لئے اس کے ابتدائی مراحل میں کسی قدر اخفاء کا پردہ ضروری ہے اور اسی لئے قرآن شریف نے اپنی ابتدا میں ہی