سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 788 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 788

۷۸۸ رشتہ داروں میں ایک نہایت مناسب شرح کے ساتھ تقسیم ہو جاتا ہے۔اگر کوئی مسلمان زمیندار مرتا ہے تو اس کی زمین اس کے سب وارثوں میں تقسیم ہو گی۔اگر کوئی دوکاندار مرتا ہے تو اس کی دوکان کا مال سب وارثوں کو پہنچے گا۔اگر کوئی کارخانہ دارفوت ہوتا ہے تو اس کے کارخانے کا حصہ بھی سارے وارثوں میں بٹے گا وعلی ہذا القیاس۔اس طرح گویا اسلام نے دولت کی دوڑ میں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد بعض قدرتی روکیں یعنی ہرڈلیس ( HURDLES ) قائم کردی ہیں اور ہر نسل کے خاتمہ پر ایک روک (یعنی ہر ڈل) سامنے آ کر اس فرق کو کم کر دیتی ہے جو گذشتہ نسل کے دوران میں پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔تقسیم ورثہ کا یہ قانون جس کامل اور مکمل صورت میں اسلام نے قائم کیا ہے وہ کسی اور جگہ نظر نہیں آتا اور اس قانون کی تفصیلات پر نظر ڈالنے سے جس کے بیان کرنے کی اس جگہ گنجائش نہیں ، صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس نظام ورثہ میں صرف ورثا کو ورثہ پہنچانا ہی مد نظر نہیں ہے بلکہ ملکی دولت کو سمونا بھی اس کا ایک بڑا مقصد ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہر مرنے والے کو اپنے مال کے ایک ثلث یعنی ایک تہائی کی وصیت کی اجازت بھی دی ہے اور یہ وصیت ورثاء کے حق میں جائز نہیں رکھی گئی۔گویا اس ذریعہ سے اسلام نے ورثہ کی جبری تقسیم کے علاوہ اس بات کا دروازہ بھی کھولا ہے کہ نیک دل لوگ اپنے اموال کو مزید مستحقین میں تقسیم کرنے کا موقع پاسکیں مگر افسوس ہے کہ وصیت کے نظام سے فائدہ اٹھانا تو در کنار آجکل کے مسلمانوں نے ورثہ کی جبری تقسیم والے حصہ کو بھی پس پشت ڈال رکھا ہے۔اور سرمایہ داری کے خمار نے لڑکیوں اور بیویوں اور ماں باپ تک کو ان کے جائز حق سے محروم کر دیا ہوا ہے۔بہر حال اسلام کا قانون ورثہ ایک ایسا بابرکت نظام ہے کہ جس کے ذریعہ تھوڑے تھوڑے وقفہ پر ملک کی دولت کے سمونے کا عمل جاری رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے یہ ہدایت بھی دی ہے کہ قومی نسل کو بڑھانے کے ذرائع اختیار کرتے رہو۔پس جب ایک طرف نسل ترقی کرے گی اور دوسری طرف ورثہ وسیع ترین صورت میں تقسیم ہو گا تو ظاہر ہے کہ ملکی دولت خود بخود دیتی چلی جائے گی مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اس مبارک تعلیم پر عمل کریں۔دوسرے نمبر پر اسلام کا قانون امداد باہمی ہے جسے دوحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک جبری اور ے: سورة النساء : ۱۳،۱۲ س : سورۃ بنی اسرائیل آیت : ۳۲ و بخاری کتاب النکاح بخاری ومسلم