سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 669
۶۶۹ واقعی نعیم نے سچ کہا ہے کہ بنو قریظہ ہماری غداری پر تلے ہوئے ہیں۔دوسری طرف جب بنو قریظہ کو قریش و غطفان کا یہ جواب گیا کہ ہم پر شمال نہیں دیتے تم نے مدد کو آنا ہے تو ویسے آؤ۔تو بنوقریظہ نے کہا کہ واقعی نعیم نے ہمیں ٹھیک مشورہ دیا تھا کہ قریش و غطفان کی نیت بخیر نہیں ہے اور اس طرح نعیم کی حسن تدبیر سے کفار کے کیمپ میں انشقاق و اختلاف کی صورت پیدا ہوگئی ہے یہ وہ تدبیر ہے جو نعیم نے اختیار کی مگر نعیم کا یہ کمال ہے کہ اس نے ایسے نازک مشن کی ادائیگی میں بھی حتی الوسع کوئی ایسی بات اپنے منہ سے نہیں نکالی جو معین طور پر کذب بیانی کے نام سے موسوم کی جاسکے۔باقی لطائف الحیل کے طریق پر کوئی تدبیر اختیار کرنا یا کوئی ایسا داؤ چلنا جس سے انسان دشمن کے شر سے محفوظ ہو سکے سو یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے بلکہ جنگی فن کا ایک نہایت مفید حصہ ہے جس سے ظالم دشمن کو خائب و خاسر کرنے اور بے جا کشت و خون کے سلسلے کو روکنے میں بہت مدد لی جاسکتی ہے۔ممکن ہے کہ نعیم بن مسعود کی اس امن پسند کوشش کا نتیجہ ضائع چلا جاتا اور ایک عارضی لغزش و تزلزل کے بعد کفار میں پھر اتحاد و ثبات کی روح پیدا ہو جاتی مگر خدا کی طرف سے ایسا اتفاق ہوا کہ ان واقعات کے بعد رات کو ایک نہایت سخت آندھی چلی۔جس نے کفار کے وسیع کیمپ میں جو ایک کھلی جگہ میں واقع تھا ایک خطرناک طوفان بے تمیزی برپا کر دیا۔خیمے اکھڑ گئے۔قتاتوں کے پردے ٹوٹ ٹوٹ کر اڑ گئے۔ہنڈیاں الٹ الٹ کر چولھوں میں گر گئیں۔اور ریت اور کنکر کی بارش نے لوگوں کے کانوں اور آنکھوں اور نتھنوں کو بھر دیا اور پھر سب سے بڑھ کر غضب یہ ہوا کہ وہ قومی آگئیں جو عرب کے قدیم دستور کے مطابق رات کے وقت نہایت التزام کے ساتھ روشن رکھی جاتی تھیں ادھر اُدھر خس و خاشاک کی طرح اڑ کر مجھنے لگ گئیں ہے ان مناظر نے کفار کے وہم پرست قلوب کو جو پہلے ہی محاصرہ کے تکلیف دہ طول اور اتحادیوں کی باہمی بے اعتمادی کے تلخ تجربے سے متزلزل ہورہے تھے ایک ایسا دھکا لگایا کہ پھر وہ سنبھل نہ سکے اور صبح سے پہلے پہلے مدینہ کا افق لشکر کفار کے گردوغبار سے صاف ہوگیا۔چنانچہ ایسا ہوا کہ جب اس آندھی کا زور ہوا تو ابوسفیان نے اپنے آس پاس کے قریشی رؤساء کو بلا کر کہا کہ ہماری مشکلات بہت بڑھ رہی ہیں اب یہاں زیادہ ٹھہر نا مناسب نہیں ہے۔اس لئے بہتر ہے کہ ہم واپس چلے جائیں اور میں تو بہر حال جاتا ہوں۔یہ کہہ کر اس نے اپنے آدمیوں کو واپسی کا حکم دیا اور پھر ابن ہشام : ابن سعد ابن ہشام وزرقانی زرقانی جلد ۲ صفحه ۲۲ او نمیس جلد اصفحه ۵۵۲