سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 641
۶۴۱ افراد کی عزت و آبرو اور سوسائٹی کے امن و امان اور ملت کے اخلاق کی حفاظت کا بڑی حد تک دار و مدار ہے۔اس قانون کی بنا ان اصول پر ہے کہ : اول ہر انسان کے متعلق اصل قیاس عصمت و عفت کا ہونا چاہئے یعنی یہ کہ ہر انسان عفیف سمجھا جانا چاہئے جب تک اس کی عصمت و عفت کے خلاف کوئی یقینی اور قطعی ثبوت موجود نہ ہو۔دوسرے یہ کہ انسان کی عزت و آبرو ایک نہایت ہی قیمتی چیز ہے جس کی حفاظت دنیا کی تمام دوسری چیزوں سے زیادہ ضروری ہے۔تیسرے یہ کہ فحشاء کا چر چاندی کے رعب کو مٹاتا اور سوسائٹی کے اخلاق کو تباہ کر دیتا ہے اس لئے اس کا سد باب ہونا ضروری ہے۔چوتھے یہ کہ جہاں یہ نہایت ضروری ہے کہ زنا کا مجرم عبرتناک سزا پائے وہاں یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ جھوٹا الزام لگانے والا بغیر سخت سزا کے نہ چھوڑا جاوے۔ان اصول کے ماتحت قرآن شریف مندرجہ ذیل قانون پیش فرماتا ہے: الزَّانِيَةُ وَالزَّانِى فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذَكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللهِ اِنْ كُنتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَ ليَشْهَدُ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمِنِيْنَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا ۚ وَأُولَيكَ هُمُ الْفَسِقُونَ ) إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔یعنی جو شخص کسی دوسرے پر زنا کا الزام لگائے اس کا فرض ہے کہ اس الزام کے ثبوت میں کم از کم چار معتبر چشم دید گواہ پیش کرے۔اگر وہ ایسے گواہ پیش کر دے تو جرم ثابت سمجھا جاوے اور مجرم کو ایک سوڈڑوں کی سزا دی جاوے اور اس سزا میں ہرگز کوئی نرمی اور رعایت نہ کی جاوے اور نیز یہ سزا علی الاعلان پبلک کے سامنے دی جاوے تا کہ دوسروں کے لئے موجب عبرت ہو لیکن اگر الزام لگانے والا اپنے الزام کو مذکورہ بالاطریق پر ثابت نہ کر سکے تو ملزم کو بے گناہ سمجھا جاوے اور الزام لگانے والے کو جھوٹا الزام لگانے کی سزا میں انٹی ڈڑوں کی سزا دی جاوے اور آئندہ جب تک ایسے لوگ اپنی اصلاح نہ کریں کسی معاملہ : سورۃ نور : ۳ تا ۶