سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 609 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 609

آیا یہ مفسدین جن کے خلاف یہ مہم اختیار کی گئی عیسائی تھے یا کہ بت پرست مشرک۔مگر حالات سے قیاس ہوتا ہے کہ غالباً یہ لوگ مشرک ہوں گے کیونکہ اگر یہ مہم عیسائیوں کے خلاف ہوتی تو مؤرخین ضرور اس کا ذکر کرتے۔واللہ اعلم ،، ابھی آپ واپس نہیں پہنچے تھے کہ آپ کے پیچھے مدینہ میں سعد بن عبادۃ رئیس قبیلہ خزرج کی ماں کا انتقال ہو گیا۔جب آپ واپس آئے تو آپ نے ان کی قبر پر جا کر دعا فرمائی اور جب سعد نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میری ماں اچانک بیہوشی کی حالت میں فوت ہوگئی ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر انہیں بولنے کا موقع ملتا تو وہ ضرور کچھ صدقہ و خیرات کرتیں۔کیا اس صورت میں اب ان کی طرف سے میں صدقہ کر سکتا ہوں تو آپ نے فرمایا ”ہاں! بے شک ان کی طرف سے صدقہ کر دو۔“ اور سعد کے دریافت کرنے پر کہ کون سا صدقہ بہتر ہوگا آپ نے فرمایا کہ لوگوں کے آرام کے لئے کوئی کنواں لگوا دو۔چنانچہ سعد نے ایک کنواں لگوا کر اسے رفاہ عام کے لئے وقف کر دیا۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ سعد کی والدہ بیہوشی کی حالت میں تو فوت نہیں ہوئی تھیں مگر چونکہ سعد خود مدینہ سے غیر حاضر تھے اور تمام جائیدا دسعد کی تھی اس لئے سعد کی والدہ با وجود خواہش کے صدقہ نہیں کرسکی تھیں۔اس کے بعد جب سعد واپس آئے تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے اپنی ماں کی طرف سے ایک باغیچہ خدا کی راہ میں صدقہ کر دیا ہے مدینہ میں خسوف قمر اور صلوٰۃ خسوف اسی سال ماہ جمادی الآخر میں مدینہ میں چاند کوگر ہن لگا ھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ نماز کے لئے جمع ہو جائیں۔چنانچہ آپ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ اس وقت تک نماز میں مصروف رہے کہ چاند کھل گیا اور اس وقت سے اسلام میں چاند گرہن کی نماز با قاعدہ مشروع ہوگئی۔جب ایک طرف مسلمان نماز میں مصروف تھے تو دوسری طرف یہود یہ سمجھ کر اپنے برتن وغیرہ بجا رہے تھے کہ چاند کو کسی نے جادو کر دیا ہے جو اس طرح شور کرنے سے جاتا رہے گا۔اس موقع پر یہ ذکرنا مناسب نہ ہوگا کہ اسلام کی یہ ایک بڑی خصوصیت ہے کہ اس نے نہ صرف ابن سعد : ابوداؤد کتاب الزكوة : تاریخ خمیس : مؤطا باب صدقة الحمى عن الميت تاریخ الخمیس جلد اصفحه ۵۲۸ بروایت ابن حبان : تاریخ الخمیس جلد اصفحه ۵۲۸