سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 574 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 574

۵۷۴ صحبت نے ان کے دلوں میں پیدا کیا تھا۔حدیث میں انس بن مالک سے ایک روایت آتی ہے کہ جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اعلان فرمایا اور پھر آپ نے ایک صحابی سے ارشاد فرمایا کہ وہ مدینہ کی گلی کوچوں میں چکر لگا کر اس کی منادی کر دیں۔انس کہتے ہیں کہ اس وقت میں ایک مکان میں ابوطلحہ انصاری اور بعض دوسرے صحابیوں کو شراب پلا رہا تھا۔ہم نے اس منادی کی آواز سنی تو ابوطلحہ نے مجھ سے کہا کہ دیکھو یہ شخص کیا منادی کر رہا ہے۔میں نے پتہ لیا تو معلوم ہوا کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔جب میں نے واپس آکر اہل مجلس کو اس کی اطلاع دی تو اسے سنتے ہی ابوطلحہ نے مجھ سے کہا۔اٹھو اور شراب کے مٹکے زمین پر بہا دولے انس کہتے ہیں کہ اس دن مدینہ کی گلیوں میں شراب بہتی ہوئی نظر آتی تھی۔یے اور اسی باب کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس شخص کی منادی سن کر کسی نے یہ نہیں کہا کہ پہلے تحقیق تو کر لو کہ یہ شخص سچ کہہ رہا ہے یا جھوٹ۔بلکہ فوراً سب نے اپنے ہاتھ کھینچ لئے اور شراب نوشی سے دفعتہ رک گئے - شراب نوشی کی سی عادت کو اور عادت بھی وہ جو گویا عرب کی گھٹی میں تھی یکلخت ترک کر دینا اور ترک بھی ایسی حالت میں کرنا کہ شراب کا دور عملاً چل رہا ہو اور پینے والے اس کے نشہ میں متوالے ہورہے ہوں ضبط نفس کی ایک ایسی شاندار مثال ہے جس کی نظیر تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گوجیسا کہ بخاری کی بعض روایات میں اشارہ پایا جاتا ہے شراب کی قطعی حرمت کا حکم غزوہ اُحد کے بعد نازل ہوا۔مگر اس سے پہلے بھی بعض قرآنی آیات اس مضمون کی نازل ہو چکی تھیں جن میں شراب کی برائی بیان کی گئی تھی۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ سب سے پہلے جو آیت شراب کے بارے میں نازل ہوئی وہ یہ تھی کہ بے شک شراب میں بعض فوائد ہیں مگر اس کے نقصانات اس کے فوائد پر غالب ہیں۔ہے اس پر حضرت عمرؓ نے جنہیں شراب کے خلاف غالباً سارے صحابہ میں سے زیادہ جوش تھا دعا کی کہ اے خدا! ہمیں شراب کے معاملہ میں کوئی زیادہ کھلا کھلا حکم عطا کر۔جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اے مومنو! جب تم نشہ کی حالت میں ہو تو نماز میں شامل نہ ہوا کرو۔اس پر حضرت عمرؓ نے پھر یہی دعا کی کہ خدایا کوئی قطعی حکم نازل فرما۔جس پر بالآخر یہ آیت اتری کہ اے مسلمانو ! شراب اور جوا نا پاک اور ضرر رساں افعال ہیں جن سے شیطان تمہارے اندر عداوت اور دشمنی پیدا کرنا چاہتا اور ان کے ذریعہ بخاری تفسیر سورۃ مائده ومسلم کتاب الاشر به بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ مائده بخاری تفسیر سوره مائده : سورة بقره : ۲۲۰ ۵ : سورة نساء : ۴۵