سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 549 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 549

۵۴۹ ہو کر نہیں لڑسکتا۔بعض لوگوں نے بطور خود اسے سمجھایا بھی کہ یہ غداری ٹھیک نہیں ہے، مگر اس نے ایک نہ سنی اور یہی کہتا گیا کہ یہ کوئی لڑائی ہوتی تو میں بھی شامل ہوتا مگر یہ کوئی لڑائی نہیں ہے بلکہ خود ہلاکت کے منہ میں جانا ہے یا اب اسلامی لشکر کی تعداد صرف سات سو نفوس پر مشتمل تھی جو کفار کے تین ہزار سپاہیوں کے مقابلہ میں ایک چہارم سے بھی کم تھی اور سواری اور سامان حرب کے لحاظ سے بھی اسلامی لشکر قریش کے مقابلہ میں بالکل کمزور اور حقیر تھا۔کیونکہ مسلمانوں کی فوج میں صرف ایک سو زرہ پوش اور فقط دو گھوڑے تھے۔۔اس کے بالمقابل کفار کے لشکر میں سات سو زرہ پوش اور دوسو گھوڑے اور تین ہزار اونٹ تھے۔اس کمزوری کی حالت میں جسے مسلمان خوب محسوس کرتے تھے عبداللہ بن ابی کے تین سو آدمی کی غداری نے بعض کمزور دل مسلمانوں میں ایک بے چینی اور اضطراب کی حالت پیدا کر دی اور ان میں سے بعض متزلزل ہونے لگ گئے۔چنانچہ جیسا کہ قرآن شریف سے میں بھی اشارہ کیا گیا ہے اسی گھبراہٹ اور اضطراب کی حالت میں مسلمانوں کے دو قبائل بنو حارثہ اور بنوسلمہ نے مدینہ کی طرف واپس لوٹ جانے کا ارادہ بھی کر لیا، مگر چونکہ دل میں نور ایمان موجود تھا پھر سنبھل گئے اور ظاہری اسباب کے لحاظ سے موت کو سامنے دیکھتے ہوئے بھی اپنے آقا کے پہلو کو نہ چھوڑا۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے آگے بڑھے اور اُحد کے دامن میں ڈیرہ ڈال دیا۔ایسے طریق پر کہ اُحد کی پہاڑی مسلمانوں کے پیچھے کی طرف آگئی اور مدینہ گویا سامنے رہا۔اور اس طرح آپ نے لشکر کا عقب محفوظ کر لیا۔عقب کی پہاڑی میں ایک درہ تھا جہاں سے حملہ ہوسکتا تھا۔اس کی حفاظت کا آپ نے یہ انتظام فرمایا کہ عبداللہ بن جبیر کی سرداری میں پچاس تیرانداز صحابی وہاں متعین فرما دئے اور ان کو تاکید فرمائی کہ خواہ کچھ ہو جاوے وہ اس جگہ کو نہ چھوڑیں اور دشمن پر تیر برساتے جائیں۔آپ کو اس درہ کی حفاظت کا اس قدر خیال تھا کہ آپ نے عبداللہ بن جبیر سے بہ تکرار فرمایا کہ دیکھو یہ درہ کسی صورت میں خالی نہ رہے۔حتی کہ اگر تم دیکھو کہ ہمیں فتح ہوگئی ہے اور دشمن پسپا ہو کر ہوکر بھاگ نکلا ہے تو پھر بھی تم اس جگہ کو نہ چھوڑنا اور اگر تم دیکھو کہ مسلمانوں کو شکست ہوگئی ہے اور دشمن ہم پر غالب آ گیا ہے تو پھر بھی تم اس جگہ سے نہ ہٹنا ہے حتی کہ ایک روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ اگر تم دیکھو کہ پرندے ہما را گوشت نوچ رہے ہیں تو پھر بھی تم یہاں سے نہ ہٹنا حتی کہ تمہیں یہاں سے ابن ہشام وابن سعد طبری : سورة آل عمران : ۱۲۳ بخاری حالات غزوہ احد بخاری کتاب المغازی حالات احد