سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 542
۵۴۲ اپنی جسمانی خواہشات اور شخصی اور انفرادی مفاد کا خیال نہیں رکھتا بلکہ اخلاقی اور روحانی اور قومی اور اجتماعی زندگی کی اصلاح اور ترقی کو اپنا نصب العین بناتا ہے۔حضرت حفصہ کی عمر شادی کے وقت قریباً اکیس سال تھی اور بوجہ اس کے کہ حضرت عائشہ کے بعد وہ صحابہ میں سے ایک افضل ترین شخص کی صاحبزادی تھیں۔ازواج مطہرات میں ان کا ایک خاص درجہ سمجھا جاتا ہے اور حضرت عائشہ کے ساتھ بھی ان کا بہت جوڑ تھا اور سوائے کبھی کبھار کی کش مکش کے جو ایسے رشتہ میں ہو جایا کرتی ہے، وہ دونوں آپس میں بہت محبت کے ساتھ رہتی تھیں۔حضرت حفصہ لکھنا پڑھنا جانتی تھیں۔چنانچہ حدیث میں ایک روایت آتی ہے کہ انہوں نے ایک صحابی عورت شفاء بنت عبداللہ سے لکھنا سیکھا تھا۔ان کی وفات ۴۵ ہجری میں ہوئی جبکہ ان کی عمر کم و بیش تریسٹھ سال کی تھی۔ولادت امام حسن رمضان ۳ ہجری ۲ ہجری کے واقعات میں حضرت علی اور حضرت فاطمہ کے نکاح کا ذکر گزر چکا ہے۔ان کے ہاں رمضان ۳ ہجری میں یعنی نکاح کے قریباً دس ماہ بعد ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن رکھا۔یہ وہی حسن ہیں جو بعد میں مسلمانوں میں امام حسن علیہ الرحمہ کے نام سے ملقب ہوئے۔حسنؓ اپنی شکل وصورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ملتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح اپنی اولاد حضرت فاطمہ سے بہت محبت تھی اسی طرح حضرت فاطمہ کی اولاد سے بھی آپ کو خاص محبت تھی۔کئی دفعہ فرماتے تھے خدایا مجھے ان بچوں سے محبت ہے تو بھی ان سے محبت کر اور ان سے محبت کرنے والوں سے محبت کر کئی دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ آپ نماز میں ہوتے تو حسنؓ آپ سے لپٹ جاتے۔رکوع میں ہوتے تو آپ کی ٹانگوں میں سے راستہ بنا کر نکل جاتے۔بعض اوقات جب صحابہ انہیں روکتے تو آپ صحابہ کو منع فرما دیتے کہ روکو نہیں۔دراصل چونکہ ان کا لپٹنا آپ کی توجہ کو منتشر نہیں کرتا تھا۔اس لئے آپ ان کی معصوم محبت کے طفلانہ مظاہرہ میں مزاحم نہیں ہونا چاہتے تھے۔امام حسنؓ کے متعلق ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ میرا یہ بچہ سید یعنی سردار ہے اور ایک وقت آئے گا کہ خدا اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دوگر ہوں میں صلح کرائے گا۔چنانچہ اپنے وقت پر یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔تے ل ابوداؤد کتاب الطب باب ماجاء في الرقى استیعاب واصا به واسدالغابه و بخاری