سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 37
۳۷ اس لئے اکثر محققین کے نزیک ان کی تصنیفات بالکل نا قابلِ اعتبار اور نا قابل سند مجھی گئی ہیں ان کے متعلق ہم ایک علیحدہ نوٹ دیں گے۔۶- طبقات كبير مصنفہ محمد ابن سعد ابن سعد ، واقدی کے خاص شاگردوں میں سے تھے اور ان کے سیکرٹری بھی تھے مگر باوجود اس -2 ۱۲۸ھ تا ۲۳۰ھ نسبت کے خود ثقہ اور معتبر سمجھے گئے ہیں ان کی کتاب بارہ جلدوں میں ہے اور بہت تفصیلی معلومات کا ذخیرہ ہے۔پہلی دو جلدیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات میں ہیں اور باقی آپ کے صحابہ کے حالات میں۔اگر واقدی کی روایتوں کو الگ کر دیا جائے تو یہ کتاب بہت اچھی اور مستند ہے۔تاریخ الامم مصنفہ ابو جعفر محمد ابن جریر یہ کتاب سیرة کی کتاب نہیں بلکہ تاریخ کی کتاب والملوک الطبرى ہے، مگر چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرة ۲۲۴ھ تا ۳۱۰ھ بھی اس کے اندر شامل ہے، اس لئے اسے سیرت کی کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔طبر کی اسلام کے مشہور مستند علماء میں سے تھے اور ان کی کتاب جو بارہ جلدوں میں ہے نہایت جامع تاریخ سمجھی گئی ہے۔انہوں نے ابن اسحاق اور واقدی اور ابن سعد کی بیشتر روایتوں کو جمع کرنے کے علاوہ بہت سی نئی روایتیں بھی درج کی ہیں اور سیرت و تاریخ میں ایک نہایت عمدہ ذخیرہ اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔