سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 437
۴۳۷ نہ صرف یہ کہ اسلام میں موجود الوقت غلاموں کی اصلاح اور ان کی بہبودی اور آرام و آسائش کے متعلق انتہائی درجہ کا زور دیا گیا ہے بلکہ یہ کہ اس تعلیم میں اسلام کا اصل منشا یہ تھا کہ غلاموں اور ان کے مالکوں کے تمدن و معاشرت اور عزت و آبرو کو ایک مساویانہ درجہ پر لا کر غلاموں کو جلد تر اس قابل بنا دیا جاوے کہ وہ آزاد ہو کر ملک کے مفید اور کارآمد شہری بن سکیں۔یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ غلاموں کے یہ حقوق جن کا کسی قدرنمونہ او پر درج کیا گیا ہے محض سفارشی رنگ نہیں رکھتے تھے بلکہ شرعی اور سیاسی احکام تھے اور حکومت اسلامی کی طرف سے نہایت سختی کے ساتھ غلاموں کے حقوق کی نگرانی کی جاتی تھی۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے: عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِي قَالَ كُنْتُ اَضْرِبُ غُلاَمًا بِالسَّوْطِ فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ خَلْفِي إعْلَمُ اَبَا مَسْعُودٍ فَلَمُ اَفْهَمُ الصَّوَّاتَ مِنَ الْغَضَبِ قَالَ فَلَمَّا دَنَى مِنِّي إِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَيَقُولُ إِعْلَمُ اَبَا مَسْعُودٍ إِعْلَمُ أَبَا مَسْعُودٍ قَالَ فَالْقِيْتَ السَّوط مِنْ يَدِى فَقَالَ إِعْلَمُ اَبَا مَسْعُودٍ إِنَّ اللهَ اَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَى هَذَا الْغُلَامِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَحُرٌّ لِوَجْهِ اللهِ فَقَالَ أَمَّا لَوْلَمْ تَفْعَلْ لَلَفْحَتْكَ النَّارُ اَوْلَمَسَتُكَ النَّارُ یعنی ابو مسعود بدری روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے کسی بات پر اپنے غلام کو مارا۔اس وقت میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی کہ کوئی شخص کہہ رہا تھا دیکھوا بومسعود یہ کیا کرتے ہومگر غصہ کی وجہ سے میں نے اس آواز کو نہ پہچانا اور غلام کو مارتا ہی گیا۔اتنے میں وہ آواز میرے قریب آگئی اور میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہی آواز دیتے ہوئے میری طرف بڑھتے چلے آرہے ہیں کہ دیکھو ابو مسعود یہ کیا کرتے ہو۔آپ کو دیکھ کر میری چھڑی میرے ہاتھ سے گر گئی اور آپ نے غصہ کی نظر سے میری طرف دیکھتے ہوئے فرمایا۔ابو مسعود تمہارے سر پر ایک خدا ہے جو تمہارے متعلق اس سے بہت زیادہ طاقت رکھتا ہے جو تم اس غلام پر رکھتے ہو۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں خدا کی خاطر اس غلام کو آزاد کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا۔اگر تم ایسا نہ کرتے تو جہنم کی آگ تمہارے منہ کو جھلتی۔“ مسلم کتاب الایمان باب ۳۵ 66