سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 364 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 364

۳۶۴ ۴۷۔جب مکہ اور مدینہ کی سرزمین شرک کے عصر سے پاک ہوگئی اس وقت یہ اعلان کیا گیا کہ اگر اب بھی کوئی بیرونی مشرک مذہبی تحقیق کے لئے حجاز میں آنا چاہے تو بخوشی آسکتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ اس کی حفاظت اور پر امن واپسی کے ہم ذمہ وار ہوں گے۔لے ۴۸۔کفار میں سے جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر لیتے تھے ان کی حفاظت اور حقوق کا آپ کو خاص خیال رہتا تھا۔چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مَنْ قَتَلَ مُـعَـاهِداً لَمْ يَرِحُ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ یعنی جو مسلمان کسی معاہد کا فر کو قتل کرے گا اسے جنت کی ہوا تک نہیں پہنچے گی۔نیز آپ نے یہ حکم جاری فرمایا تھا کہ جو مسلمان کسی معاہد کا فر کو یونہی غلطی سے بلا ارادے کے قتل کر دے اس کا فرض ہوگا کہ اس کے رشتہ داروں کو اس کی پوری پوری دیت ادا کرنے کے علاوہ ایک غلام آزاد کرے۔۴۹ معاہد کا فر کے متعلق یہ بھی فرمایا کہ مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِداً أَوِ انْتَقَصَهُ أَوْ كَلَّفَهُ فَوْقَ الطَّاقَةِ أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسِهِ فَاَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " یعنی جو مسلمان کسی معاہد کا فر پر کسی قسم کا ظلم کرے گا یا اسے نقصان پہنچائے گایا اس پر کوئی ایسی ذمہ داری یا ایسا کام ڈالے گا جو اس کی طاقت سے باہر ہے یا اس سے کوئی چیز بغیر اس کی خوشی اور مرضی کے لے گا تو اے مسلمانو ! سن لو میں قیامت کے دن اس معاہد کا فر کی طرف سے ہو کر اس مسلمان کے خلاف انصاف چاہوں گا۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم کے خلاف جنگ کرنے کو نکلتے تھے تو فتح حاصل ہونے کے بعد عموماً تین دن سے زیادہ وہاں نہیں ٹھہرتے تھے اور یہ غالبا اس لئے کرتے تھے کہ وہاں کے لوگوں کے لئے اسلامی لشکر کا قیام موجب تکلیف اور پریشانی نہ ہو۔۵۱ سب سے آخر میں مگر غالبا سب سے بڑھ کر یہ کہ جہاد میں دین کی حفاظت اور فتنہ کے سدباب کے سوا کسی اور نیت کو سخت نا جائز سمجھا جاتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عام اعلان تھا کہ جو شخص غنیمت کے لالچ میں یا لڑائی کے اظہار کے لئے یا کسی اور دنیا وی غرض سے نکلتا ہے وہ جہاد کے ثواب سے قطعی محروم ہے۔اس ضمن میں کسی قدر مفصل بحث او پر گزر چکی ہے۔-۵۰ لے : سورۃ توبہ ابوداؤد : بخاری کتاب الجہاد ۳ : سورۃ نساء : ۹۳ ۵ : بخاری کتاب الجهاد