سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 298
۲۹۸ دراصل جمعہ نمازوں کی عید ہے جیسا کہ روزوں کی عید عید الفطر اور حج کی عید عید الاضحیٰ ہے اور اسی لئے شریعت اسلامی میں جمعہ کی نماز کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔اس نماز میں امام ایک خطبہ دیتا ہے جس میں حاضر الوقت مسائل پر تقریر ہوتی ہے اور حاضرین کو ایمان و اعمال کے متعلق مناسب نصائح کی جاتی ہیں اور اس کے بعد دورکعت نماز فرض ادا کی جاتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی حکم ہے کہ حتی الوسع ہر مسلمان کو چاہئے کہ جمعہ کے دن غسل کرے اور کپڑے بدلے اور خوشبو لگائے اور خطبہ شروع ہونے سے قبل مسجد میں پہنچ جاوے۔جس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پہلا جمعہ ادا کیا۔اس جگہ اب ایک مسجد ہے جسے اس جمعہ کی یادگار میں مسجد الجمعہ کہتے ہیں۔جمعہ سے فارغ ہو کر آپ کا قافلہ پھر آہستہ آہستہ آگے روانہ ہوا۔راستہ میں آپ مسلمانوں کے گھروں کے پاس سے گزرتے تھے تو وہ جوش محبت میں بڑھ بڑھ کر عرض کرتے تھے 'یا رسول اللہ ! یہ ہمارا گھر یہ ہمارا مال و جان حاضر ہے اور ہمارے پاس حفاظت کا سامان بھی ہے آپ ہمارے پاس تشریف فرما ہوں۔آپ ان کے لئے دعائے خیر فرماتے اور آہستہ آہستہ شہر کی طرف بڑھتے جاتے تھے۔مسلمان عورتوں اور لڑکیوں نے خوشی کے جوش میں اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ چڑھ کر گانا شروع کیا۔طَلَعَ البَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَى لِلَّهِ دَاع یعنی آج ہم پر کوہ وداع ع کی گھاٹیوں سے چودھویں کے چاند نے طلوع کیا ہے۔اس لئے اب ہم پر ہمیشہ کے لئے خدا کا شکر واجب ہو گیا ہے۔مسلمانوں کے بچے مدینہ کی گلی کوچوں میں گاتے پھرتے تھے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔خدا کے رسول آگئے۔اور مدینہ کے حبشی غلام آپ کی تشریف آوری کی خوشی میں تلوار کے کرتب دکھاتے پھرتے تھے۔جب آپ شہر کے اندر داخل ہوئے تو ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ آپ اس کے پاس قیام فرما ئیں اور ہر شخص بڑھ بڑھ کر اپنی خدمت پیش کرتا تھا۔آپ سب کے ساتھ محبت کا کلام فرماتے اور آگے بڑھتے جاتے تھے۔حتی کہ آپ کی ناقہ بنو نجار کے محلہ میں پہنچی اس جگہ بنو نجار کے لوگ ہتھیاروں سے سجے ہوئے صف بند ہو کر آپ کے استقبال کے لئے کھڑے تھے اور قبیلہ کی لڑکیاں ل : زرقانی جلد اصفحه ۳۵۹ مطبوعہ مصر بمطبع الازہر بیت المصرية ۱۳۲۵ھ : وداع ایک پہاڑی یا بعض روایتوں کی رو سے وہ مختلف الحبت پہاڑیوں کا نام ہے جہاں مدینہ والے اپنے مسافروں کو رخصت کیا کرتے تھے اور باہر سے آنے والوں کا استقبال بھی یہیں کیا جاتا تھا۔