سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 245 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 245

۲۴۵ وطن سے بے وطن میثرب اور اہل میترب مکہ کے شمال کی طرف قریباً اڑھائی سو میل کے فاصلہ پر ایک شہر ہے جس کا نام مدینہ ہے۔اب تو اس کے نام سے ساری دنیا واقف ہے کیونکہ ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر کے آخری دس سال یہیں گزارے اور یہیں آپ فوت ہوئے اور یہیں آپ کا مزار مبارک ہے اور یہی ابتدا میں خلافت اسلامی کا مرکز رہا ہے مگر اسلام سے پہلے یہ شہر ایک گمنامی کی حالت میں تھا اور اس کا نام یثرب تھا۔ہجرت کے بعد رسول خدا کا مسکن ہو جانے کی وجہ سے اس کا نام مدينة الرسول مشہور ہو گیا اور پھر آہستہ آہستہ صرف مدینہ رہ گیا۔اسلام سے پہلے یثرب کی آبادی مذہباً دو حصوں میں منقسم تھی۔یعنی یہود اور بت پرست۔یہود پھر آگے تین قبائل میں تقسیم شدہ تھے یعنی بنو قینقاع بنونضیر اور بنو قریضہ اور بت پرستوں کی بھی دو شاخیں تھیں جن کا نام اوس اور خزرج تھا۔یہی اوس اور خز رج بعد میں اسلام لا کر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دے کر انصار کے لقب سے ملقب ہوئے۔اسلام سے پہلے اوس و خزرج عموماً آپس میں برسر پیکار رہتے تھے۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں ان کے درمیان ایک خطر ناک لڑائی ہوئی جو جنگ بعاث کے نام سے مشہور ہے۔اس لڑائی میں اوس وخز رج کے بڑے بڑے نامورسردار کٹ کر ہلاک ہو گئے۔چونکہ یہودی لوگ علمی اور مذہبی لحاظ سے ان بت پرستوں پر فوقیت رکھتے تھے اور دولت و اقتدار میں بھی عموماً بڑھے ہوئے تھے ، اس لیے یہود کا اُن پر خاص اثر تھا۔حتی کہ اگر کسی مشرک کے اولا دنرینہ نہ ہوتی تھی تو وہ منت مانتا تھا کہ اگر میرے اولاد نرینہ ہوئی تو میں اپنے پہلے لڑکے کو یہودی بنادوں گا۔یہود کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اوس و خزرج بھی کتب سماوی اور سلسلہ رسالت سے کچھ کچھ آشنا ہو گئے تھے اور چونکہ یہود میں الہی نوشتوں کی رو سے ان دنوں ایک نبی کا انتظار تھا، اس لیے یہ بات اوس اور خزرج کے کانوں تک بھی پہنچ چکی تھی کیونکہ یہود اُن سے کہا کرتے تھے کہ اب ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے۔وہ جب ا : تفسیر ابن جریر زیر آیت لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ - بقره : ۲۵۷