سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 244
۲۴۴ ہر وقت اُسے نیست و نابود کر دینے کی فکر میں رہتے تھے۔طائف والوں نے اسلام کا نام لینے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر برسا دئیے تھے۔دیگر قبائل عرب آپ کو صاف صاف جواب دے چکے تھے۔گویا ظاہری اسباب کے لحاظ سے اب اسلام کے لیے ” نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن “ کی حالت تھی مگر اسلام خدا کا بھیجا ہوا دین تھا اور اُسی نے اسے قائم کرنے کا وعدہ فرمایا تھا اور اس زمانہ میں بھی اس کی تائید ونصرت کے وعدے ہو رہے تھے بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ اس زمانہ کی وحی الہی میں خصوصیت کے ساتھ بڑے پر شوکت اور پر رعب الفاظ میں اسلام کی آئندہ ترقی اور فتوحات کے نقشے کھینچے جارہے تھے اور مخالفین اسلام کی آئندہ ناکامیاں اور ان کی ہلاکت کی پیشگوئیاں دنیا کو سنائی جارہی تھیں۔قریش ان باتوں کو سنتے اور بے اختیار ہنس دیتے۔مگر خداوند عالمیان اپنی قدرت کے زور سے یہ سب نظارے دکھانے والا تھا اور پردہ غیب سے عنقریب کچھ ظاہر ہونے والا تھا؛ چنانچہ ناگاہ میثرب کی جانب کا کنارہ ٹوٹ کر گرا اور اسلامی چشمہ کا پانی جو چاروں طرف راستہ بند ہونے کی وجہ سے اب تک اپنے کناروں کے ساتھ ٹکراٹکرا کر رہ جاتا تھا بڑے زور کے ساتھ اس راستہ سے بہ نکل مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کی کیفیت بیان کریں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ میٹر ب اور اہلِ یثرب کا مختصر سا حال تحریر کر دیں تا کہ ان واقعات کا سمجھنا آسان ہو جاوے۔