سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 193
۱۹۳ قوی شبہ پیدا کرتا ہے کہ محصور ہونے کی غیر معمولی تختی کا ان کی وفات میں بہت کچھ دخل تھا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلسل تختی کے اثر کے نیچے اُن کی صحتیں بالکل شکستہ ہوگئی تھیں لیکن جب تک تو وہ محصور رہے ان کی طبیعتوں کو مقابلہ کے خیال نے سنبھالے رکھا مگر جو نہی کہ وہ باہر آئے محاصرہ کی لمبی سختی نے اپنا اثر ظاہر کر دیا اور دونوں ایک دوسرے کے آگے پیچھے موت کا شکار ہو گئے۔ان پے در پے صدموں کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سال یعنی ۱۰ نبوی کا نام عام الحزن یعنی غموں کا سال رکھا۔ابوطالب گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور باپ کے تھے اور آپ سے بہت محبت کرتے تھے اور آپ کو بھی ان سے بہت محبت تھی۔جب ابو طالب مرض الموت میں تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم با قاعدہ ان کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے؛ چنانچہ ایک دفعہ جب ان کی وفات قریب تھی۔آپ اُن کے پاس تشریف لے گئے۔اس وقت وہاں ابو جہل وغیرہ مشرکین بھی بیٹھے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطالب کی وفات قریب دیکھ کر فرمایا۔” چا! آپ صرف کلمہ شہادت پڑھ دیں۔میں قیامت کے دن خدا کے حضور آپ کے متعلق عرض کروں گا۔“ یہ سن کر ابو جہل وغیرہ گھبرائے اور ابوطالب سے کہنے لگے کہ کیا آپ اپنے والد عبدالمطلب کے دین کو چھوڑ دیں گے؟ اور مختلف صورتوں میں ابوطالب کو سمجھاتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابوطالب کی زبان سے جو آخری الفاظ سنے گئے وہ یہ تھے کہ ”میں عبد المطلب کے دین پر مرتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ سنے تو دردمند ہو کر فرمایا۔”اچھا میں بھی اپنے رب سے آپ کے واسطے مغفرت چاہتا رہوں گا سوائے اس کے کہ میں اس سے روک دیا جاؤں۔مگر ابھی زیادہ وقت نہیں گذرا تھا کہ آپ اس سے روک دیئے گئے اور شرک اور کفر پر مرنے والوں کے لیے یہ حکم نازل ہوا کہ اُن کے لیے مغفرت کی دعا کرنا جائز نہیں بلکہ ان کا معاملہ خدا پر چھوڑ نا چاہیئے کے ایک روایت یہ بھی آتی ہے جو بعید نہیں کہ درست ہو کہ ابو طالب نے مرتے ہوئے رؤسا قریش سے یہ الفاظ کہے کہ : ”اے قریش کے گروہ ! تم خدا کی خلق میں ایک برگزیدہ قوم ہوا اور خدا نے تمہیں بڑی عزت دی ہے۔میں تمہیں محمد کے متعلق نصیحت کرتا ہوں کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا کیونکہ وہ تم میں ایک اعلیٰ اخلاق کا انسان ہے اور عربوں میں اپنے صدق اور سداد کی وجہ سے امتیاز رکھتا ہے اور سچ پوچھو تو وہ ہماری طرف وہ پیغام لایا ہے جس سے خواہ زبان انکار کرتی ہے، مگر دل اُسے مانتا ہے۔میں نے عمر بھر محمد کا ساتھ دیا ہے اور ہر تکلیف کے موقع پر اس کی حفاظت کے لیے آگے بڑھا ہوں اور اگر مجھے اور مہلت ملی تو آئندہ : بخاری باب قصه ابی طالب : زرقانی