سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 188
۱۸۸ مخالفین اسلام سب ایک سے نہ تھے۔بعض یہ درد ناک نظارے دیکھتے تھے تو ان کے دل میں رحم پیدا ہوتا تھا۔چنانچہ حکیم بن حزام کبھی کبھی اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ کے لیے خفیہ خفیہ کھانا لے جاتے تھے۔مگر ایک دفعہ ابو جہل کو کسی طرح اس کا علم ہو گیا تو اس کمبخت نے راستہ میں بڑی سختی کے ساتھ روکا اور باہم ہاتھا پائی تک نوبت پہنچ گئی یا یہ مصیبت برابراڑھائی تین سال تک جاری رہی اور اس عرصہ میں مسلمان سوائے حج وغیرہ کے موسم کے جب کہ اشہر حرم کی وجہ سے امن ہوتا تھا باہر نہیں نکل سکتے تھے ہے اس ظلم سے مسلمانوں کی رہائی جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے قریش میں بعض نرم دل اور شریف مزاج لوگ بھی تھے۔یہ لوگ ان مظالم کو دیکھتے تو دل میں گڑھتے مگر قوم کے متفقہ فیصلہ کے مقابلہ کی تاب نہ رکھتے تھے، اس لیے دل ہی دل میں بیچ و تاب کھا کر رہ جاتے آخر خدا کی طرف سے ایسا سامان پیدا ہو گیا کہ انہیں اس معاملہ میں جرات کے ساتھ قدم اُٹھانے کی ہمت پڑ گئی۔اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے کہ جب اس بائیکاٹ پر قریباً تین سال کا عرصہ گذر گیا، تو ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چا ابو طالب سے فرمایا کہ مجھے خدا نے بتایا ہے کہ ہمارے خلاف جو معاہدہ لکھا گیا تھا اس میں سوائے خدا کے نام کے ساری تحریر مٹ چکی ہے اور کاغذ کھایا جاچکا ہے۔ابو طالب فورا اٹھ کر خانہ کعبہ میں پہنچے جہاں بہت سے رؤسائے قریش مجلس لگائے بیٹھے تھے اور ان کو مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ تمہارا یہ ظالمانہ معاہدہ کب تک چلے گا۔میرے بھتیجے نے مجھے بتایا ہے کہ خدا نے اس معاہدہ کی ساری تحریر سوائے اپنے نام کے محو کر دی ہے یا تم ذرا یہ معاہدہ نکالو تا کہ دیکھیں کہ میرے بھتیجے کی یہ بات کہاں تک درست ہے بعض دوسرے لوگوں نے کہا کہ ہاں ہاں ! ضرور دیکھنا چاہیے۔چنانچہ معاہدہ منگا کر دیکھا گیا تو واقعی وہ سب کرم خوردہ ہو چکا تھا اور سوائے شروع میں خدا کے نام کے کوئی لفظ پڑھا نہیں جاتا تھا۔اس پر بعض قریش تو اور بھی زیادہ چمک اُٹھے لیکن وہ جن کے دل میں پہلے سے انصاف اور رحم اور قرابت داری کے جذبات پیدا ہو رہے تھے ان کو اس معاہدہ کے خلاف آواز اٹھانے کا ایک عمدہ موقع ہاتھ آ گیا ہے چنانچہ روسائے قریش میں سے ہشام بن عمرو۔زہیر بن ابی امیہ۔مطعم بن عدی۔ابوالبختری اور زمعہ بن اسود نے باہم مل کر یہ تجویز کی کہ اس ظالمانہ اور قطع رحمی کرنے ل : ابن ہشام : ابن سعد : قریش کی عادت تھی کہ اپنی تحریرات کے شروع میں باسمک اللھم کے لفظ لکھا کرتے تھے اور معاہدہ میں صرف یہی حصہ باقی رہ گیا تھا۔: ابن ہشام وابن سعد