سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 170 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 170

۱۷۰ یعنی اس قصہ میں کوئی بات بھی درست نہیں نہ نقل کے طریق پر اور نہ عقل کے طریق پر۔دوسری طرف اکثر ائمۃ الحدیث نے اس قصہ کا ذکر تک نہیں کیا۔مثلاً صحاح ستہ میں اس کی طرف اشارہ تک نہیں ؛ حالانکہ صحاح ستہ میں سورۃ نجم کی تلاوت اور قریش کے سجدہ کا ذکر موجود ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان محدثین کے سامنے یہ روایت آئی۔لیکن انہوں نے اسے غلط اور نا قابلِ اعتبار سمجھ کر رد کر دیا۔اسی طرح کبار مفسرین مثلاً امام رازی نے اس قصہ کو لغوا اور جھوٹا قرار دیا ہے۔اور صوفیاء میں سے ابن عربی جیسے باریک بین انسان نے اس کے متعلق لکھا ہے کہ: "لَا أَصْلَ لَهَا۔یعنی اس قصہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں۔ویسے بھی اگر صرف سورۃ نجم کی آیات پر ہی جو شروع سے لے کر آخر تک شرک کے خلاف بھری پڑی ہیں نظر ڈالی جاوے تو اُسی سے اس کا بطلان ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ یہ ہرگز خیال نہیں کیا جاسکتا کہ اس قسم کے موحدانہ کلام میں جس میں توحید باری تعالیٰ پر اس قدر زور دیا گیا ہے ایک صریح طور پر مشرکانہ فقرہ داخل کیا جا سکتا تھا اور ایک ہی وقت میں ایک ہی زبان پر دو انتہائی طور پر متضاد باتیں جاری ہو سکتی تھیں۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی کے لحاظ سے بھی عقل انسانی اس قصہ کو دور سے دھکے دیتی ہے۔بھلا جس شخص نے اپنی بعثت سے پہلے بھی ساری عمر بت پرستی نہ کی ہو حالانکہ اس کی ساری قوم بت پرست ہو تو کیا عقل اس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ اس وقت جب کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کا صریح حکم آگیا ہو کہ بت پرستی کے خلاف آواز اُٹھا اور صرف خدائے واحد کی پرستش کا لوگوں کو حکم دے اور اس کے مذہب کا بنیادی پتھر ہی تو حید باری تعالیٰ ہو جس کی وجہ سے وہ دن رات لوگوں کے ساتھ جھگڑتا ہو تو کیا اس وقت وہ قریش کو خوش کرنے کے لئے بت پرستی کی طرف جھک جائے گا؟ آخر عقل بھی کوئی چیز ہے؟ ذرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر نظر ڈالو۔کیا کبھی آپ نے کفار کو خوش کرنے کی غرض سے اپنے مذہب کے کسی اصول کو چھوڑا ؟ کیا کبھی آپ نے کفار کو اپنے ساتھ ملانے کی غرض سے مداہنت اختیار کی ؟ قرآن تو صریح کہتا ہے: وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ " یعنی کفار کو ہمیشہ یہ حسرت ہی رہی کہ تو مداہنت کر کے ان کی ہاں میں ہاں ملا وے تو وہ بھی مداہنت اختیار کر لیں اور اس طرح ظاہری صورت میل ملاپ کی ہو جاوے۔“ ل : تفسیر کبیر باب سورۃ نجم ۶۳۱ : زرقانی سے : سورة القلم : ١٠