سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 100
10۔بنو مطلب اور بنو ہاشم کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کا موجب ہوا اور بنو مطلب ہمیشہ بنو ہاشم کے ساتھ ایک جان ہو کر رہے؛ چنانچہ اسی رشتہ اتحاد کا نتیجہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ خمس کی تقسیم میں سے ( یعنی مال غنیمت میں سے وہ پانچواں حصہ جو اللہ اور اُس کے رسول کے قریبی رشتہ داروں اور مشترک اسلامی ضروریات کے لیے الگ کیا جاتا تھا) بنو ہاشم کے ساتھ بنو مطلب کاحصہ بھی نکالتے تھے اور جب بنو نوفل اور بنو عبد شمس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے برابری رشتہ کی بنا پر درخواست کی کہ بنو مطلب کی طرح اُن کو بھی شمس سے حصہ ملا کرے تو آپ نے انکار کیا اور فرمایا کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب تو ایک ہی ہیں لیے چاہ زمزم کی تلاش چاہ زمزم جو مکہ کی آبادی کا پہلا سبب تھا صدیوں سے بند ہو کر گم ہو چکا تھا۔جب عبدالمطلب کے ہاتھ میں سقایۃ الحاج کا کام آیا تو اُس نے ایک خواب کی بنا پر اس کھوئے ہوئے چشمہ کا نشان تلاش کرنا چاہا۔چنانچہ وہ اور اس کا لڑکا حارث اس کی تلاش میں مصروف ہوئے لیکن قریش میں سے کسی نے بنو ہاشم کی مدد نہ کی۔بلکہ بعض نے الٹا باپ بیٹے کا مذاق اڑایا۔عبدالمطلب نے اس وقت اپنی کمزوری پر شرم و غیرت کے جوش میں آکر نذرمانی کہ اگر خدا اُسے دس بچے دے گا اور وہ اس کی آنکھوں کے سامنے جوان ہو جائیں گے تو اُن میں سے ایک کو وہ خدا کی راہ میں قربان کر دے گا۔کچھ عرصہ کی محنت کے بعد عبدالمطلب کو زمزم کی جگہ کا نشان مل گیا جسے کھودنے سے یہ پرانا چشمہ پھر نکل آیا اور اس کے ساتھ ہی وہ دفینہ بھی برآمد ہوا جو قبیلہ جرھم نے مکہ چھوڑتے ہوئے اُس میں دفن کر دیا تھا۔اس غیر مترقبہ واقعہ نے تمام قریش پر عبدالمطلب کا سکہ بٹھا دیا اور گوانہوں نے شروع میں عبدالمطلب کے ساتھ دفینہ کے بارے میں جھگڑا کرنا چاہا، لیکن بالآ خر مرعوب ہو کر خاموش ہو گئے۔پھر وہ آہستہ آہستہ اس کی بڑائی کے اس قدر قائل ہو گئے کہ بالآ خر عبدالمطلب کی یہ حالت تھی کہ تمام قریش اُسے اپنا نہایت واجب الاحترام سردار جانتے تھے کے عبدالمطلب کا بڑا ہم مجلس ابو سفیان کا والد حرب بن امیہ تھا لیکن بالآ خر عبدالمطلب کی ترقی نے اس کے دل میں بھی حسد کی چنگاری پیدا کر دی اور اُس نے اپنے باپ کی طرح بنو ہاشم سے مقابلہ کرنا چاہا لیکن ناکام رہا۔اس منافرت کے بعد عبدالمطلب کی مجلس زیادہ تر عبد اللہ بن جدعان تیمی کے ساتھ رہی جو مکہ کا ا : بخاری باب مناقب قریش ۳ : ابن سعد وابن ہشام : ابن سعد ذکر نذر عبد المطلب