سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 96 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 96

۹۶ حجابہ یعنی کعبہ کی دربانی اور کلید برداری۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ کام بنوعبدالدار میں تھا اور عثمان بن طلحہ کے سپر دتھا۔یہ تینوں کام قصی نے اپنی زندگی میں خود اپنے پاس رکھے تھے۔تقسیم نظام قبیلہ قریش کے عام انتظامی کاموں کی تقسیم بھی -۲ -٣ -1 عقاب یعنی جنگوں وغیرہ کے موقع پر علمبرداری۔یہ کام بھی قصی کے اپنے پاس تھا اور اس کے بعد بنوعبدالدار میں آیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں یہ کام طلحہ بن ابی طلحہ کے سپر د تھا۔اسی کا دوسرا نام لواء تھا۔قیادہ یعنی جنگوں اور قافلوں میں کمان۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ کام بنوامیہ میں تھا اور ابوسفیان کے سپر د تھے۔سفارت یعنی قریش کی طرف سے بوقت ضرورت کسی دوسرے قبیلہ یا حکومت کی طرف سفیر ہو کر جانا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ کام بنو عدی میں تھا اور حضرت عمرؓ کے سیر د تھا۔دیات اور مغارم یعنی باہم لڑائیوں میں خون بہا وغیرہ کا فیصلہ کرنا۔یہ کام بنوتیم میں تھا اور حضرت ابو بکر کے سپر د تھا۔- قبه یعنی جنگوں میں سوار فوج کی افسری اور کیمپ کا انتظام۔یہ منصب خاندان مخزوم میں تھا اور -1 ولید بن مغیرہ کے سپر د تھا۔از لام یعنی فال کشی کا انتظام۔یہ کام بنو حج میں تھا اور صفوان بن امیہ کے سپر دتھا۔مشورہ یعنی اہم اجتماعی کاموں میں بین القبائل مشورہ کا انتظام۔یہ کام بنو اسد میں تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یزید بن ربیعتہ الا سود کے سپر دتھا۔قضاء یعنی مقدمات کا فیصلہ۔یہ کام بنو سہم میں تھا اور حارث بن قیس کے سپر دتھا۔وغیرہ وغیرہ۔دار الندوة قصی نے کعبہ کے پاس ایک دارالندوہ بھی بنایا جس میں قریش اپنے تمام قومی کام سرانجام دیتے تھے اور یہیں سردارانِ قریش باہم مشورہ کے لیے جمع ہوتے تھے۔یہ گویا قریش کا کونسل ہال تھا۔ہجرت سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا فیصلہ بھی سردارانِ قریش نے دار الندوة میں ہی کیا تھا۔دارالندوہ کے مشورہ میں شریک ہونے کے لیے یہ ایک شرط تھی کہ عمر چالیس سال سے کم