سیرت حضرت اماں جان — Page 46
کہ وہ اسے بمشکل سنبھال سکتے ہیں۔46 46 ہمدردی کے اظہار کے لئے بعض غیر احمدی معززین بھی باہر سے تشریف لائے ہیں۔غیر مبائع اصحاب میں سے مکرم مرزا مسعود بیگ صاحب لاہور سے اور مکرم مولوی عبداللہ جان صاحب پشاور سے تشریف لائے ہیں۔قرار داد لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ربوہ مؤرخه ۲ مئی ۱۹۵۲ء بروز جمعہ مجلس عاملہ لجنہ اماءاللہ مرکز یہ کا اجلاس حضرت اماں جان کی تعزیت کے لئے منعقد ہوا۔جس میں مندرجہ ذیل ریزولیوشن پاس کیا گیا۔مجلس عاملہ کا یہ غیر معمولی اجلاس احمدی قوم کی مشفق و مہربان ماں کی اندوہناک وفات پر گہرے رنج کا اظہار کرتا ہے۔یقیناً حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کی وفات ہمارے لئے بہت بڑا صدمہ ہے۔آپ کا وجود جماعت کے لئے خدائی برکات کے نزول کا بہت بڑا ذریعہ تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیض اور برکات کا سب سے زیادہ قریبی مشاہدہ کرنے کا عینی شاہد۔افسوس آج ہم ان تمام برکات سے محروم ہیں نہ صرف یہ بلکہ حضرت اماں جان بیوگان کے لئے ملجا وماوی۔یتامی کے لئے محبت بھری گود۔اور مساکین کے لئے حاجت روا تھیں۔اب یہ تمام لوگ آپ کی وفات پر حسرت و یاس کا مجسمہ بنے ہوئے ہیں۔ہمیں یہ دیکھ کر بہت زیادہ رنج اور قلق ہوتا ہے کہ حضرت اماں جان کو اپنی آرام گاہ اپنے پیارے سرتاج کے قرب میں میسر نہیں آسکی۔اے خدا اس مقدس وجود کی تربت پر جو تیرے نشانات میں سے ایک نشان تھا اور جس کی تیرے پیارے رسول محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے سینکڑوں سال قبل پیشگوئی کی تھی اور جس کے لئے يتزوج ويولد له کی پیشگوئی روز روشن کی طرح پوری ہورہی ہے اور ہوتی رہے گی۔ہزاروں ہزار رحمتیں نازل فرما اور اسے جنت الفردوس کے اعلیٰ مقامات میں جگہ عطا فرما اور آپ کی